افغانستان میں حالات حکومتی کنٹرول سے باہر ہونے لگے، طالبان رجیم کے خلاف مسلح تنظیموں کی کارروائیوں میں 11 اہلکار ہلاک ہوگئے۔
افغانستان میں افغان طالبان رجیم کے خلاف مسلح کارروائیاں شدید اختیار کر گئی ہیں، جس کی وجہ سے خطے میں سکیورٹی اور مؤثر کنٹرول کے تمام تر دعووں پر سنگین سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
طالبان مخالف مسلح تنظیموں افغانستان فریڈم فرنٹ، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور افغان گرین ٹرینڈ نے مختلف افغان صوبوں میں کارروائیاں اور حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
مسلح تنظیم افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ غور، بدخشان، غزنی، زابل، قندھار اور پروان میں 7 ٹارگیٹڈ کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ان ٹارگیٹڈ کارروائیوں میں طالبان رجیم کے 9 اہلکار ہلاک جبکہ 9 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل کے علاقے قرہ باغ میں طالبان رجیم کی گاڑی پر مسلح حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
علاوہ ازیں افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان انٹیلی جنس اہلکاروں کی گاڑی کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں 2 اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔






