پشاور (جی ٹی وی نیوز اردو): خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ اقتدار کے باوجود تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایبٹ آباد کے حلقہ پی کے 42 میں 53 اسکولوں کی تعمیر تاحال مکمل نہیں ہوسکی، جس کے باعث بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں سیاسی سرگرمیوں اور اقتدار کی کشمکش کے دوران تعلیمی منصوبوں کی تکمیل متاثر ہوئی، جبکہ حلقہ پی کے 42 میں بعض بچے آج بھی مناسب عمارتوں اور بنیادی سہولیات کے بغیر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
ایبٹ آباد میں زیرِ تعمیر ایک اسکول کی عمارت کے کلاس رومز میں بچوں کے بجائے بھینسوں اور دیگر مویشیوں کی موجودگی کے مناظر بھی سامنے آنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکولوں کی اپ گریڈیشن کے دعووں کے باوجود متعدد مقامات پر عمارتوں، چار دیواریوں اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مسئلہ برقرار ہے۔
رپورٹ میں تعلیمی شعبے میں 92 کروڑ روپے کے مبینہ کرپشن اسکینڈل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے صوبے میں تعلیمی منصوبوں اور فنڈز کے استعمال سے متعلق اہم معاملہ قرار دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومتی کارکردگی کا اہم پیمانہ ہے۔ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کی تعمیر، اسکولوں کی بہتری اور طلبہ کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
رپورٹ میں سامنے آنے والے نکات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ برسوں اقتدار میں رہنے کے باوجود اسکولوں کی تعمیر اور بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے مکمل کیوں نہیں ہوسکے۔ نامکمل اسکولوں اور تعلیمی سہولیات کی کمی کے مسائل کا حل ہزاروں بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اہم ہے۔






