لاہور میں اسموگ کی شدت نے شہریوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ شہر کی فضا میں آلودگی خطرناک سطح تک پہنچنے کے بعد والدین اپنے بچوں کی صحت اور حفاظت کے حوالے سے فکر مند ہیں۔
والدین کو خدشہ ہے کہ آلودہ فضا میں روزانہ اسکول آنے جانے سے بچوں کو سانس اور دیگر طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی صورتحال کے باعث شہریوں کی نظریں حکومت کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا لاہور میں اسکول بند کیے جائیں گے یا تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
28 اکتوبر 2026 کو صبح 8 بجے دستیاب فضائی معیار کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 358 ریکارڈ کیا گیا۔ اس سطح کو صحت کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ لاہور اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر تھا۔ شہر کی فضا میں باریک آلودہ ذرات، جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے، کی مقدار 254 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی انتہائی بلند سطح
لاہور میں فضائی آلودگی کی شدت ہر علاقے میں یکساں نہیں ہے۔ مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنز سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار میں بعض مقامات پر آلودگی کی سطح انتہائی زیادہ سامنے آئی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق علامہ اقبال ٹاؤن بی میں ایئر کوالٹی انڈیکس 635 ریکارڈ کیا گیا۔ سی ای آر پی آفس کے مقام پر یہ شرح 599 رہی، جبکہ برکی روڈ پیراگون میں اے کیو آئی 457 رپورٹ ہوا۔ اس کے علاوہ اے آر سی لاہور اور ایئر واچ پاکستان آر جی کے مقامات پر بھی آلودگی کی سطح 400 سے زیادہ بتائی گئی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہر کے بعض علاقوں میں شہریوں کو آلودہ فضا کا زیادہ سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم، ایئر کوالٹی انڈیکس مختلف اوقات اور مقامات پر تبدیل ہوتا رہتا ہے، اس لیے تازہ صورتحال جاننے کے لیے مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
اسموگ سے بچوں کی صحت کو کیا خطرات لاحق ہیں؟
لاہور میں بڑھتی ہوئی اسموگ نے خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں کی صحت کے حوالے سے خدشات پیدا کردیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آلودہ ہوا میں موجود ذرات آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش اور سانس لینے میں دشواری کا سبب بن سکتے ہیں۔ زیادہ آلودگی کے دوران ان مسائل کی شدت بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
پی ایم 2.5 انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کے اندر تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان ذرات کی مسلسل زد میں رہنا نظامِ تنفس کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ بچوں کے علاوہ بزرگ افراد اور دمے کے مریضوں کو بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسموگ کے دوران بچوں کو طویل وقت تک کھلی فضا میں کھیلنے یا سخت جسمانی سرگرمیاں کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ آلودگی زیادہ ہونے کی صورت میں باہر غیر ضروری وقت گزارنے سے بچنا بھی بہتر ہے۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو مناسب حفاظتی ماسک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، ماسک کا انتخاب کرتے وقت اس کی آلودگی کے باریک ذرات کو روکنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
اگر کسی بچے یا بالغ شخص کو مسلسل کھانسی، سانس پھولنے یا سینے میں جکڑن کی شکایت ہو تو طبی مشورہ لینا چاہیے۔ سانس لینے میں شدید دشواری کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔
کیا لاہور میں اسکول بند ہوں گے؟
لاہور میں فضائی آلودگی کی خطرناک صورتحال کے باوجود دستیاب معلومات کے مطابق حکومت نے تاحال اسکول بند کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ اس لیے فی الحال تعلیمی اداروں کی بندش کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
والدین اور طلبہ حکومت کی جانب سے باضابطہ اعلان کے منتظر ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اگر اسموگ کی شدت برقرار رہی تو بچوں کی صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ان اقدامات میں اسکولوں کی بندش یا تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے احتیاطی ہدایات شامل ہوسکتی ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد کا فیصلہ متعلقہ حکام ہی کریں گے۔






