سندھ کے 8 تعلیمی بورڈز گزشتہ 10 برس سے مستقل ناظم امتحانات اور سیکریٹریز سے محروم ہیں، جبکہ مستقل آڈٹ افسران کی تعیناتی بھی نہیں ہوسکی۔
تعلیمی بورڈز میں عارضی بنیادوں پر افسران کی تعیناتیوں کے باعث تقریباً 14 لاکھ طلبہ کے امتحانات کا انتظامی نظام متاثر ہونے اور نتائج کی شفافیت سے متعلق خدشات بڑھنے لگے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق صوبے کے مختلف تعلیمی بورڈز میں مستقل افسران کی عدم موجودگی کے باعث انتظامی امور عارضی تعیناتیوں کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ بعض بورڈز میں ایک ہی سال کے دوران تین تین کنٹرولرز امتحانات تبدیل کیے گئے، جبکہ مستقل تقرریوں کے لیے قواعد موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
تعلیمی بورڈز میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نتائج کی تبدیلی کے متعدد معاملات بھی زیرِ تحقیق ہیں۔ ان واقعات کے حوالے سے محکمہ اینٹی کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں، جس کے باعث امتحانی نتائج کی تیاری اور انتظامی نگرانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
نتائج سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات کے مطابق کمیٹی کی سفارشات پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں امتحانی نظام میں اصلاحات اور نتائج سے متعلق شکایات کے مؤثر ازالے کا معاملہ بدستور توجہ طلب ہے۔
دوسری جانب مستقل افسران کی تقرری کے لیے تلاش کمیٹی کے انٹرویوز بھی کیے گئے، لیکن سیکریٹریز اور کنٹرولرز کے عہدوں پر میرٹ کے مطابق مستقل تقرریاں نہ ہوسکیں۔ مستقل آڈٹ افسران کی عدم تعیناتی بھی بورڈز کے مالی اور انتظامی معاملات کی نگرانی کے حوالے سے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
کراچی میٹرک بورڈ اور حیدرآباد تعلیمی بورڈ بھی مستقل چیئرمینوں سے محروم ہیں۔ اہم انتظامی عہدوں پر مستقل سربراہوں اور متعلقہ افسران کی عدم موجودگی سے فیصلوں کے تسلسل، جواب دہی اور امتحانی معاملات کی نگرانی کے نظام پر خدشات پیدا ہورہے ہیں۔
سندھ کے تعلیمی بورڈز میں مستقل تقرریوں کے بجائے عارضی تعیناتیوں کا سلسلہ برقرار رہنے سے انتظامی استحکام اور امتحانی نظام کی شفافیت کا معاملہ اہم ہوگیا ہے۔ مستقل افسران کی میرٹ پر تعیناتی، کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد اور نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات مکمل کرنا اس نظام کی بہتری کے لیے اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔





