سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد کی ایران میں اہم میٹنگ خطے میں قائم اسٹریٹجک شراکت داری اور امن کی کوششوں میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہو رہی ہے۔
ایران میں ہونے والی مکہ ڈیفنس الائنس کے تین بنیادی ممالک ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کی اہم ترین ملاقات اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ یہ اتحاد کس قدر مضبوط، مؤثر اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔
یہ اتحاد اب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ حالات کو سدھارنے اور سفارتی معاملات کو بہتر بنانے میں اپنا مرکزی اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورہ ایران اس اہم پیش رفت کی بنیاد ثابت ہوا ہے کیونکہ اس تاریخی ملاقات کو ممکن بنانے میں ان کی سفارتی کوششوں کا بنیادی کردار رہا ہے۔
ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے حکام نے بتایا ہے کہ اس چار ملکی اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کے دوران سامنے آیا تھا۔ فیلڈ مارشل نے خطے میں پائیدار امن کی خاطر اس چار ملکی اجلاس کی تجویز پیش کی تھی، جسے ایران نے فوری طور پر قبول کر لیا۔
فیلڈ مارشل مکہ الائنس کے مشترکہ دفاعی فریم ورک اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے عمل میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
ان غیر یقینی حالات میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ مکہ اتحاد خطے میں امن، استوار دفاع اور استحکام کی سب سے مضبوط بنیاد بن کر ابھر رہا ہے اور پاکستان اس پورے عمل کی کامیابی میں قائدانہ کردار نبھا رہا ہے۔






