کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): سندھ کے سرکاری کالجز میں طلبہ کو پریکٹیکل کی تیاری اور امتحانات کے لیے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے نئے جرنلز استعمال کرنا ہوں گے، تاہم کالجز کی لیبارٹریوں میں ضروری آلات کی کمی کے باعث نئے جرنلز کے مطابق عملی مشقیں کروانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
نئے پریکٹیکل جرنلز میں مختلف تجربات اور عملی مشقیں شامل کی گئی ہیں، جنہیں طلبہ نے لیبارٹریوں میں خود انجام دینا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کو نصاب کے مطابق عملی تعلیم فراہم کرنا اور پریکٹیکل امتحانات کی تیاری میں مدد دینا ہے، لیکن شہر کے بیشتر سرکاری کالجز کی لیبز میں ان تجربات کے لیے درکار تمام آلات موجود نہیں۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ نئے جرنلز کے مطابق پریکٹیکلز کروانے کے لیے لیبارٹریوں میں تقریباً 50 فیصد آلات کی کمی ہے۔ اس صورتحال میں طلبہ کے لیے کتابوں میں درج تجربات کو عملی طور پر انجام دینا مشکل ہوسکتا ہے، جبکہ اساتذہ کو بھی نئے نصاب کے مطابق تدریسی سرگرمیاں مکمل کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
لیبارٹریوں میں آلات کی فراہمی کا مطالبہ
اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے پریکٹیکل جرنلز پر عمل درآمد کے ساتھ سرکاری کالجز کی لیبارٹریوں میں تمام ضروری آلات بھی فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ صرف نئے جرنلز متعارف کرانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے، جب تک عملی مشقوں کے لیے مناسب سہولیات دستیاب نہ ہوں۔
تعلیمی حلقوں میں لیبارٹریوں کی سہولیات کو طلبہ کی عملی تربیت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر طلبہ کو نصاب میں شامل تجربات خود کرنے کا موقع نہ ملے تو ان کی پریکٹیکل امتحانات کی تیاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سرکاری کالجز کی لیبز میں آلات کی کمی دور کرنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ طلبہ نئے نصاب کے مطابق تجربات کرسکیں اور عملی تعلیم کے تقاضے پورے ہوں۔





