تہران میں مکہ معاہدے کی نمائندہ ریاستوں اور ایرانی حکام کے اعلیٰ سطحی اجلاس کو سفارتی ماہرین نے خطے میں تصادم کا دائرہ روکنے اور سکیورٹی خدشات دور کرنے کا ایک اہم ترین سنگِ میل قرار دے دیا۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں مکہ معاہدے کی نمائندہ ریاستوں کے اعلیٰ سطحی وفد اور ایرانی حکام کے مابین اہم اجلاس ہوا، اس چار ملکی اہم اجلاس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور ترکیہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن نے شرکت کی۔
اس اجلاس کا بنیادی مقصد خطے میں پیدا ہونے والے بحران کی کشیدگی کو کم کرنا اور فریقین کے مابین سکیورٹی و سفارتی ذرائع سے توازن قائم کرنا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کے موجودہ حالات میں اس اجلاس کا انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ جیسی مؤثر علاقائی طاقتوں کی اعلیٰ سطح کی نمائندگی شامل ہے۔
سعودی سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم العثیمین کے مطابق یہ اجلاس ثابت کرتا ہے کہ خطے کو ملٹری تصادم سے بچانے کے لیے ذمہ دارانہ سفارت کاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے 3 عناصر کا ہونا ضروری ہے، جن میں عسکری کشیدگی میں کمی، مذاکرات کا ماحول اور دیرپا سکیورٹی سمجھوتے شامل ہیں۔
دوسری جانب عالمی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر علی الخشیبان نے وضاحت کی کہ سعودی عرب کا موقف روزِ اول سے ہی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستے کھلے رکھنے پر مبنی رہا ہے، کیونکہ سعودی عرب کی معاشی ترقی اور ویژن کا انحصار خطے کے امن سے جڑا ہے۔
سعودی حکام نے اس بات کی بھی امید ظاہر کی ہے کہ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ثالثی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور تمام فریقین عسکری راستے کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل نکالنے پر تعاون کریں گے۔






