تازہ ترین
گوادر کے سمندر میں 500 سے زائد ڈولفن کی موجودگی ریکارڈ، دلکش مناظر توجہ کا مرکز بن گئےایران میں مکہ معاہدے کے وفد کی ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کا سفارتی روڈ میپحادثے سے الیکشن تک، سربیا میں طلبہ نے اقتدار کا توازن کیسے بدلا؟عزم اور قربانیوں کو خراج تحسین، پاک فوج نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر پر نیا نغمہ جاری کردیاخیبرپختونخوا میں 6 سال سے زیرِ التوا منصوبہ صرف 10 دن میں مکملصحت کارڈ پلس پروگرام؛ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور اقتدار کی ایک اور واردات سے پردہ فاشپورٹ قاسم کے قریب پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی زون قائم کرنے کا فیصلہفولڈ ایبل آئی فون سے متعلق بُری خبر آگئیگوادر کے سمندر میں 500 سے زائد ڈولفن کی موجودگی ریکارڈ، دلکش مناظر توجہ کا مرکز بن گئےایران میں مکہ معاہدے کے وفد کی ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کا سفارتی روڈ میپحادثے سے الیکشن تک، سربیا میں طلبہ نے اقتدار کا توازن کیسے بدلا؟عزم اور قربانیوں کو خراج تحسین، پاک فوج نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر پر نیا نغمہ جاری کردیاخیبرپختونخوا میں 6 سال سے زیرِ التوا منصوبہ صرف 10 دن میں مکملصحت کارڈ پلس پروگرام؛ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور اقتدار کی ایک اور واردات سے پردہ فاشپورٹ قاسم کے قریب پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی زون قائم کرنے کا فیصلہفولڈ ایبل آئی فون سے متعلق بُری خبر آگئی
صحت

شیشہ نوشی کو سگریٹ سے کم نقصان دہ سمجھنا غلط فہمی، ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیا

شیشہ نوشی کے نقصانات

دوستوں کی محفل یا کیفے میں شیشہ پینا بعض افراد کے لیے تفریح کا ذریعہ ہے، تاہم طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ شیشہ نوشی کو سگریٹ کے مقابلے میں محفوظ یا کم نقصان دہ سمجھنا درست نہیں۔ شیشے کے دھوئیں میں ایسے مادے شامل ہو سکتے ہیں جو پھیپھڑوں، دل اور مجموعی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

خلیج ٹائمز کی فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں طبی ماہرین نے شیشہ نوشی کے ممکنہ خطرات پر توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی سے دھواں گزارنے کا عمل اسے نقصان دہ اجزا سے مکمل طور پر پاک نہیں کرتا۔

ایک گھنٹے کے شیشے کا سگریٹ سے موازنہ

رپورٹ میں ڈاکٹر سلیمان الحبیب میڈیکل گروپ کے ماہرِ امراضِ سینہ ڈاکٹر محمد فوزی قطرانجی سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک گھنٹے تک شیشہ پینے کے دوران دھوئیں کی مقدار کا موازنہ تقریباً 40 سگریٹ سے کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، شیشہ اور سگریٹ کے درمیان ایسا موازنہ استعمال ہونے والے تمباکو، دورانیے، سانس لینے کے انداز اور دھوئیں کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے اسے ہر صورت میں ایک مقررہ یا قطعی مساوات نہیں سمجھنا چاہیے۔

رپورٹ میں سعودی جرمن اسپتال کی ماہرِ امراضِ تنفس ڈاکٹر ریچل کامنسکی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن کے مطابق بعض افراد مسلسل دو سے چار گھنٹے تک شیشہ پیتے ہیں۔ طویل دورانیے تک دھواں سانس کے ذریعے اندر جانے سے نقصان دہ مادوں کی مجموعی مقدار بڑھ سکتی ہے۔

کیا شیشے کا پانی دھوئیں کو محفوظ بناتا ہے؟

شیشہ نوشی کے بارے میں ایک عام خیال یہ ہے کہ دھواں پانی سے گزرنے کے بعد نقصان دہ نہیں رہتا۔ طبی ماہرین اس تاثر کو درست نہیں سمجھتے۔

شیشے کے دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر مضر مادے شامل ہو سکتے ہیں۔ کاربن مونو آکسائیڈ خون کی آکسیجن پہنچانے کی صلاحیت میں مداخلت کر سکتی ہے، جبکہ دھوئیں کے دیگر اجزا سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

شیشہ نوشی کے دوران کوئلے کا استعمال بھی نقصان دہ گیسوں کی پیداوار کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے پانی کی موجودگی کو دھوئیں سے پیدا ہونے والے تمام خطرات کے خاتمے کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔

کن علامات پر توجہ دینی چاہیے؟

ماہرین کے مطابق مسلسل کھانسی، بلغم، سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز اور سانس پھولنے کی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ مختلف سانس کی بیماریوں کی علامات ہو سکتی ہیں، جن میں پھیپھڑوں کی دائمی رکاوٹی بیماری (COPD) بھی شامل ہے۔

تاہم، صرف ان علامات کی بنیاد پر کسی بیماری کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ اگر علامات مسلسل رہیں یا بڑھ جائیں تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔ شدید سانس کی تکلیف کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

صحت کے تحفظ کے لیے کیا کریں؟

طبی ماہرین کی عمومی ہدایت یہ ہے کہ شیشہ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات سے گریز کیا جائے۔ شیشہ نوشی کو محفوظ تفریح سمجھنے کے بجائے اس کے ممکنہ نقصانات کو سمجھنا ضروری ہے۔

اگر کسی شخص کو تمباکو چھوڑنے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو وہ مستند طبی ماہر سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ شیشہ نوشی ترک کرنا اور دھوئیں سے دور رہنا پھیپھڑوں اور دل کی صحت کے تحفظ کی جانب اہم قدم ہو سکتا ہے۔