ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے۔ اس میں خون میں شکر کی مقدار معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ دنیا بھر میں اس مرض کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں، لیکن ٹائپ 2 ذیابیطس سب سے عام ہے۔ اس کے علاوہ ٹائپ 1 ذیابیطس اور حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس بھی اہم اقسام میں شامل ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر خون میں شکر کی مقدار مسلسل زیادہ رہے تو اس سے صحت کے مختلف مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ مناسب غذا، باقاعدہ ورزش اور روزمرہ کی اچھی عادات اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان عادات میں چہل قدمی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے صبح کی چہل قدمی بہتر ہے یا رات کی؟ ماہرین کے مطابق دونوں اوقات میں چہل قدمی فائدہ دے سکتی ہے۔ تاہم، اس کا اثر ہر شخص کی صحت، کھانے کے اوقات اور بلڈ شوگر کی سطح کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔
صبح کی چہل قدمی بلڈ شوگر کے لیے کیسے فائدہ مند ہے؟
کچھ افراد میں صبح کے وقت بلڈ شوگر کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ ایسا رات بھر کھانا نہ کھانے کے باوجود بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ جسم میں ہارمونز کی تبدیلی ہے۔ یہ ہارمونز جگر کو گلوکوز خارج کرنے کا اشارہ دیتے ہیں، تاکہ جسم کو دن شروع کرنے کے لیے توانائی مل سکے۔
ایسی صورت میں صبح کے وقت ہلکی یا معتدل ورزش فائدہ دے سکتی ہے۔ تیز قدموں سے چہل قدمی کرنے سے جسم کے پٹھے گلوکوز استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل سے خون میں شکر کی مقدار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تحقیقی شواہد کے مطابق ناشتے سے پہلے تقریباً 30 منٹ کی معتدل ایروبک ورزش، جس میں تیز چہل قدمی بھی شامل ہے، بعض افراد میں صبح کے بلڈ شوگر لیول کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ صبح کی ورزش کو روزانہ کے معمول کا حصہ بنانے سے جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے دن بھر بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، ہر شخص کے لیے خالی پیٹ ورزش کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ خاص طور پر وہ افراد جو انسولین یا بلڈ شوگر کم کرنے والی بعض ادویات استعمال کرتے ہیں، انہیں ورزش کے دوران شوگر کم ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے انہیں اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ورزش کا وقت طے کرنا چاہیے۔
رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کے فوائد
رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرنا بھی بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کا ایک مفید طریقہ ہے۔ کھانا کھانے کے بعد جسم غذا کو ہضم کرکے گلوکوز میں تبدیل کرتا ہے۔ اس دوران خون میں شکر کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ اگر اس وقت ہلکی جسمانی سرگرمی کی جائے تو پٹھے گلوکوز استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح کھانے کے بعد بلڈ شوگر میں ہونے والے اضافے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایک تحقیق میں کھانے کے تقریباً 30 منٹ بعد 10 منٹ تک چہل قدمی کرنے کے ممکنہ فوائد سامنے آئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختصر وقت کے لیے پیدل چلنا بھی مفید ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی شخص روزانہ طویل وقت تک ورزش کرے۔ معمول کے مطابق مختصر چہل قدمی بھی اچھی عادت بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف رات کے کھانے کے بعد ہی نہیں، بلکہ دن کے دیگر کھانوں کے بعد بھی چہل قدمی فائدہ دے سکتی ہے۔ اگر ناشتے یا دوپہر کے کھانے کے بعد چند منٹ پیدل چلنے کا موقع ملے تو اس عادت کو اپنانا بہتر ہے۔
بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے چہل قدمی کا بہترین وقت کون سا ہے؟
صبح اور رات کی چہل قدمی میں سے کسی ایک کو ہر شخص کے لیے بہترین قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر کسی فرد کی بلڈ شوگر صبح کے وقت زیادہ ہوتی ہے تو صبح کی جسمانی سرگرمی اس کے لیے مفید ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب، اگر کھانے کے بعد بلڈ شوگر میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے تو کھانے کے بعد چہل قدمی زیادہ فائدہ دے سکتی ہے۔
اس لیے بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے چہل قدمی کا بہترین وقت ہر شخص کی ضرورت کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اپنی شوگر کی ریڈنگ نوٹ کرکے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کس وقت ورزش کرنے سے انہیں زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بھی ضروری ہے۔
اگر روزانہ ورزش کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا تو چند منٹ سے آغاز کیا جاسکتا ہے۔ آہستہ آہستہ چہل قدمی کا دورانیہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ تیز چلنے کے بجائے اپنی جسمانی حالت کے مطابق رفتار رکھنا زیادہ مناسب ہے۔
چہل قدمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے باقاعدگی بہت اہم ہے۔ کبھی کبھار زیادہ دیر تک چلنے کے بجائے روزانہ مناسب وقت کے لیے چہل قدمی کرنا بہتر عادت ہے۔ اس سے جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور بلڈ شوگر کو طویل مدت تک قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
چہل قدمی کے ساتھ متوازن غذا، مناسب نیند اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال بھی ضروری ہے۔ صرف ورزش پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ مریضوں کو اپنی بلڈ شوگر کی نگرانی جاری رکھنی چاہیے اور علاج میں تبدیلی ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کرنی چاہیے۔






