تازہ ترین
مکہ معاہدے میں شامل ممالک اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا آغازفیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی اور سعودی حکام کے ہمراہ آج تہران کا دورہ کریں گے، علی باقریبلوچستان میں گندم کا بحران شدید ہوگیا، پاسکو سے گندم کی خریداری تعطل کا شکارہواوے نے فولڈ ایبل فونز کی دنیا میں نیا انداز متعارف کروا دیا، Pura X میں کیا خاص ہے؟ منفرد فیچرز اور قیمت جانیںعلیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی میں 30 دن کی توسیعکراچی اور لاہور کی فضا شدید آلودہ ہوگئی، شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحقمعروف اینکر اقرار الحسن کی ضمانت کے لیے سیشن عدالت میں اپیل دائرواٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کروا دیامکہ معاہدے میں شامل ممالک اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا آغازفیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی اور سعودی حکام کے ہمراہ آج تہران کا دورہ کریں گے، علی باقریبلوچستان میں گندم کا بحران شدید ہوگیا، پاسکو سے گندم کی خریداری تعطل کا شکارہواوے نے فولڈ ایبل فونز کی دنیا میں نیا انداز متعارف کروا دیا، Pura X میں کیا خاص ہے؟ منفرد فیچرز اور قیمت جانیںعلیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی میں 30 دن کی توسیعکراچی اور لاہور کی فضا شدید آلودہ ہوگئی، شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحقمعروف اینکر اقرار الحسن کی ضمانت کے لیے سیشن عدالت میں اپیل دائرواٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کروا دیا
دنیا

افغان فریڈم فرنٹ کی بگرام ملٹری بیس پر کارروائی، 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک و زخمی

بگرام

افغانستان میں قابض طالبان رجیم کے خلاف مسلح مخالفین کی کارروائیوں میں شدید تیزی آ گئی، بگرام ایئرفیلڈ سمیت متعدد فوجی مراکز کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنا لیا گیا۔

افغانستان میں طالبان کے نام نہاد امن و امان کے دعوؤں کو شدید دھچکا لگا ہے، جہاں مخالف مسلح گروپ افغان فریڈم فرنٹ نے مختلف علاقوں میں پے در پے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان فریڈم فرنٹ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی مربوط کارروائی میں بگرام ملٹری ایئرفیلڈ میں واقع طالبان کے فوجی مراکز اور تربیتی کیمپوں پر راکٹ داغے گئے ہیں۔

اس حملے کے نتیجے میں 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ طالبان رجیم کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

افغان جریدے کابل ناو نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان فریڈم فرنٹ نے حالیہ دنوں میں ہونے والی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں سینکڑوں طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف حملوں کا یہ سلسلہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ افغان رجیم کی پالیسیوں کی وجہ سے وہاں کے عوام میں شدید بے چینی پائے جاتی ہے اور طالبان کا کنٹرول کمزور ہو رہا ہے۔