کراچی میں ہواؤں کی سمت تبدیلی کے بعد فضائی آلودگی بڑھ گئی، لاہور میں اسموگ کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔
کراچی اور لاہور میں فضائی آلودگی نے شہریوں کی زندگی دو بھر کر دی ہے۔ کراچی میں ہواؤں کی سمت تبدیل ہوتے ہی ایئر کوالٹی انڈیکس 165 تک پہنچ گیا ہے اور فضا میں پی ایم 2.5 کے باریک آلودہ ذرات کی مقدار عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
شہر میں گاڑیوں کا دھواں، کچرا جلانے اور تعمیراتی کاموں کے باعث آلودگی بڑھ رہی ہے، جس سے بچوں، بزرگوں اور دمے کے مریضوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
دوسری جانب لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے، جہاں زہریلی ہواؤں کا راج ہے۔ لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں ایئر کوالٹی انڈیکس 232 اور برکی روڈ پیراگون میں 216 ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے علاوہ سول سیکریٹریٹ میں 193، اے آر سی میں 181 اور ماڈل ٹاؤن میں 174 ایئر کوالٹی انڈیکس درج ہوا۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے اور ماسک کے استعمال کی ہدایت کی ہے۔





