تازہ ترین
مکہ معاہدے کے رکن ممالک اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا آغازفیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی اور سعودی حکام کے ہمراہ آج تہران کا دورہ کریں گے، علی باقریبلوچستان میں گندم کا بحران شدید ہوگیا، پاسکو سے گندم کی خریداری تعطل کا شکارہواوے نے فولڈ ایبل فونز کی دنیا میں نیا انداز متعارف کروا دیا، Pura X میں کیا خاص ہے؟ منفرد فیچرز اور قیمت جانیںعلیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی میں 30 دن کی توسیعکراچی اور لاہور کی فضا شدید آلودہ ہوگئی، شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحقمعروف اینکر اقرار الحسن کی ضمانت کے لیے سیشن عدالت میں اپیل دائرواٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کروا دیامکہ معاہدے کے رکن ممالک اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا آغازفیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی اور سعودی حکام کے ہمراہ آج تہران کا دورہ کریں گے، علی باقریبلوچستان میں گندم کا بحران شدید ہوگیا، پاسکو سے گندم کی خریداری تعطل کا شکارہواوے نے فولڈ ایبل فونز کی دنیا میں نیا انداز متعارف کروا دیا، Pura X میں کیا خاص ہے؟ منفرد فیچرز اور قیمت جانیںعلیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی میں 30 دن کی توسیعکراچی اور لاہور کی فضا شدید آلودہ ہوگئی، شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحقمعروف اینکر اقرار الحسن کی ضمانت کے لیے سیشن عدالت میں اپیل دائرواٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کروا دیا
پاکستان

معروف اینکر اقرار الحسن کی ضمانت کے لیے سیشن عدالت میں اپیل دائر

اقرار الحسن

معروف اینکر اقرار الحسن کے خلاف ریاست مخالف مواد کی تشہیر کے مقدمے میں وکیل صفائی نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کا فیصلہ سیشن عدالت میں چیلنج کر دیا۔

اینکر اقرار الحسن کے خلاف ریاست مخالف مواد کی تشہیر کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وکیل صفائی نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے فیصلے کو سیشن عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔

وکیل صفائی کا مؤقف ہے کہ این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن پر صرف عمومی نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں اور مقدمے میں کسی قسم کے قابل اعتراض مواد کی تفصیلی معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن نے بطور صحافی صرف گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، لہذا شواہد کی جانچ کے لیے ان کی جسمانی کسٹڈی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اقرار الحسن اس وقت سینٹرل جیل کراچی میں قید ہیں اور سیشن عدالت میں ان کی درخواست ضمانت پر سماعت جلد متوقع ہے۔