مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے انتخابات میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو ریگیولیٹ کرنے کے لیے ضابطہ اخلاق کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا۔
الیکشن کمیشن نے ملک میں انتخابی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس سلسلے میں ابتدائی طور پر سیاسی جماعتوں، امیدواروں، مبصرین اور میڈیا کے لیے ایک نیا ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سال 2023 میں تیار کیے گئے پرانے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کا مسودہ جاری کیا گیا ہے، جس میں کل 12 نئی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تمام فریقین سے ان ترامیم پر 20 نومبر تک اپنی تجاویز اور آراء فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جاری کردہ مسودے کے تحت میڈیا کے ضابطہ اخلاق میں 5 ترامیم تجویز کی گئی ہیں، مبصرین کے لیے 3 ترامیم رکھی گئی ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے استعمال پر 5 ترامیم تجویز کی گئی ہیں تاکہ جعلی ویڈیوز اور مواد کی روک تھام کی جا سکے۔






