بلوچستان حکومت کا پاسکو سے 57 ہزار 500 میٹرک ٹن گندم خریدنے کا معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا، جس سے صوبے میں گندم اور آٹے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔
بلوچستان میں گندم کا بحران شدید تر ہو گیا ہے۔ محکمہ کموڈٹی مینجمنٹ کے ذرائع کے مطابق بلوچستان کابینہ نے 2 ماہ قبل پاسکو سے گندم کی خریداری کی منظوری دی تھی، تاہم ابھی تک اس پر عمل نہیں ہو سکا اور حکومت اب 57 ہزار 500 میٹرک ٹن گندم کی خریداری منسوخ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
گندم نہ خریدنے کے باعث حکومت کے پاس گندم کا سرکاری اسٹاک اب ختم ہو چکا ہے۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ گندم کی عدم دستیابی کے باعث صوبے میں 100 کلو گندم کی بوری 14 ہزار روپے اور آٹے کی 100 کلو بوری 16 ہزار 300 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
فلور ملز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر گندم نہ خریدی گئی تو آئندہ ماہ حالات مزید گھمبیر ہو جائیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان سے دیگر صوبوں کو گندم کی نقل و حمل پر فوری پابندی عائد کی جائے۔






