تازہ ترین
اس تصویر میں برفانی تیندوا کہاں چھپا ہے؟ 10 سیکنڈ میں تلاش کرکے دکھائیں!سیب کو زیادہ دنوں تک تازہ کیسے رکھیں؟ آسان طریقہ سامنے آگیاجنوبی کوریا نے دھماکے میں فوجیوں کے زخمی ہونے کا ڈرامہ رچایا ہے، شمالی کوریا کا اقوام متحدہ کو خطحوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ، سعودی اتحاد کی جوابی کارروائیعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈسعودی عرب کی فضائیہ نے ریاض کی جانب آنے والا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کردیابرازیل میں بائیں بازو کی تاریخی فتح، لولا نے سخت مقابلے کے بعد صدارت کا میدان مار لیاسری لنکا نے طبی امداد کے بعد سمندر میں پھسنے 40 ایرانی ملاحوں کو وطن واپس بھیج دیااس تصویر میں برفانی تیندوا کہاں چھپا ہے؟ 10 سیکنڈ میں تلاش کرکے دکھائیں!سیب کو زیادہ دنوں تک تازہ کیسے رکھیں؟ آسان طریقہ سامنے آگیاجنوبی کوریا نے دھماکے میں فوجیوں کے زخمی ہونے کا ڈرامہ رچایا ہے، شمالی کوریا کا اقوام متحدہ کو خطحوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ، سعودی اتحاد کی جوابی کارروائیعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈسعودی عرب کی فضائیہ نے ریاض کی جانب آنے والا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کردیابرازیل میں بائیں بازو کی تاریخی فتح، لولا نے سخت مقابلے کے بعد صدارت کا میدان مار لیاسری لنکا نے طبی امداد کے بعد سمندر میں پھسنے 40 ایرانی ملاحوں کو وطن واپس بھیج دیا
کاروبار

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کی سرمایہ کاری کے قواعد میں تبدیلی کردی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کی سرمایہ کاری سے متعلق قواعد میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔

 نئے قواعد کے تحت بینکوں کے لیے کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور مختلف فنڈز میں سرمایہ کاری کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام بینکوں کے لیے سرمایہ کاری کی باقاعدہ پالیسی بنانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئے ضوابط کے مطابق اب کوئی بھی بینک کسی ایک کمپنی میں اپنے بنیادی سرمائے کا زیادہ سے زیادہ 5 فیصد سرمایہ لگا سکے گا۔ اس کے ساتھ کمپنی کے کل حصص میں سرمایہ کاری کی حد بھی مقرر کی گئی ہے۔ بینک کسی ایک کمپنی کے 10 فیصد سے زیادہ حصص نہیں خرید سکے گا۔ ان اقدامات کا مقصد بینکوں کی سرمایہ کاری کو مقررہ حدود میں رکھنا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے لیے بھی نئی حد مقرر کی ہے۔ اب بینک کسی اسٹارٹ اپ میں زیادہ سے زیادہ 50 کروڑ روپے یا اپنے بنیادی سرمائے کا 5 فیصد تک سرمایہ لگا سکیں گے۔ ان دونوں میں سے جو حد لاگو ہوگی، اس کے مطابق سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ فِن ٹیک اسٹارٹ اپس بھی ان نئے قواعد کے دائرے میں شامل ہوں گے۔ اس طرح مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ لگانے والے بینکوں کو بھی مقررہ ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔

نئے قواعد میں میوچل فنڈز اور رئیل اسٹیٹ فنڈز میں سرمایہ کاری کے لیے بھی حد مقرر کی گئی ہے۔ کسی ایک فنڈ میں بینک کی سرمایہ کاری اس کے بنیادی سرمائے کے 5 فیصد یا متعلقہ فنڈ کے کل یونٹس کے 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکے گی۔ اس پابندی کے تحت بینکوں کو فنڈز میں رقم لگاتے وقت مقررہ حدود کا خیال رکھنا ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے نئے ضوابط کے مطابق سرمایہ کاری کرنے سے پہلے بینکوں کے لیے مکمل جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔ انہیں متعلقہ کمپنی یا فنڈ کی مالی حالت، ممکنہ خطرات اور متوقع منافع کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس سے سرمایہ کاری کے فیصلے کرتے وقت مالی معاملات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور مختلف فنڈز میں لگائی گئی رقم کو بھی بینکوں کی مجموعی سرمایہ کاری میں شمار کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ بینکوں کو اپنی سرمایہ کاری کا حساب لگاتے وقت ان تمام شعبوں میں لگائی گئی رقم کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

تاہم نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے یونٹس کو نجکاری مکمل ہونے تک مخصوص رعایت حاصل رہے گی۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاری سے متعلق پہلے سے موجود دیگر قواعد برقرار رہیں گے۔ بینکوں کو نئی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ان پرانے ضوابط پر بھی عمل کرنا ہوگا۔