تازہ ترین
بلوچستان کے شیر باز مری نے عالمی ایم ایم اے چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیاگوادر شہر پر بھارتی منفی پروپیگنڈا بے نقاب، تمام معمولاتِ زندگی پرامن طور پر رواں دواںپاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، ستمبر میں 435 ملین ڈالر کا ہدف حاصلمودی حکومت کا پاکستان دشمن ایجنڈا، سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے پر پابندی برقرارافغان فریڈم فرنٹ کی بگرام ملٹری بیس پر کارروائی، 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک و زخمیقومی کرکٹر صائم ایوب کو پاکستان اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیاگوگل میپس استعمال کرتے وقت یہ غلطی نہ کریں!!! ورنہ فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہوگیصبح یا رات؟ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے چہل قدمی کا بہترین وقت کون سا ہے؟بلوچستان کے شیر باز مری نے عالمی ایم ایم اے چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیاگوادر شہر پر بھارتی منفی پروپیگنڈا بے نقاب، تمام معمولاتِ زندگی پرامن طور پر رواں دواںپاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، ستمبر میں 435 ملین ڈالر کا ہدف حاصلمودی حکومت کا پاکستان دشمن ایجنڈا، سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے پر پابندی برقرارافغان فریڈم فرنٹ کی بگرام ملٹری بیس پر کارروائی، 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک و زخمیقومی کرکٹر صائم ایوب کو پاکستان اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیاگوگل میپس استعمال کرتے وقت یہ غلطی نہ کریں!!! ورنہ فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہوگیصبح یا رات؟ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے چہل قدمی کا بہترین وقت کون سا ہے؟
دنیا

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ

خام تیل

عالمی مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل کے فیوچرز میں ایک ڈالر اور ساٹھ سینٹ یعنی ایک اعشاریہ پانچ پانچ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد تیل کی قیمت ایک سو ایک ڈالر اور سڑسٹھ سینٹ فی بیرل پر آگئی ہے۔

اسی طرح برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں ایک ڈالر اور چھپن سینٹ یعنی ایک اعشاریہ تین چار فیصد کی کمی ہوئی ہے اور یہ ایک سو پندرہ ڈالر اور سولہ سینٹ فی بیرل پر بند ہوئے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جمعہ کے روز سعودی عرب میں حوثی حملوں کی وجہ سے توانائی کی رسد کے خدشات کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں تقریبا تین ڈالر فی بیرل کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تاہم موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کی کمی نے سرمایہ کاروں کو قدرے سکون کا سانس لینے کا موقع دیا ہے، جبکہ ماہرین عالمی منڈی میں رسد اور طلب کے توازن پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔