برازیل کے تجربہ کار بائیں بازو کے رہنما لوئیس انالیو لولا دا سلوا نے ایک سخت مقابلے کے بعد صدارتی انتخابات جیت کر چوتھی بار اقتدار سنبھالنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
برازیل کے سابق صدر اور بائیں بازو کے معروف رہنما لوئیس انالیو لولا دا سلوا نے اپنے دائیں بازو کے حریف فلاویو بولسونارو کو شکست دے کر صدارتی انتخاب میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ لولا کی صدارتی انتخاب میں چوتھی جیت ہے، جنہوں نے اس سے قبل جنوری 2003 سے دسمبر 2010 اور پھر جنوری 2023 سے بھی صدارت کے فرائض انجام دیے۔
اتوار کے روز ہونے والے اس دوسرے راؤنڈ کے انتخاب میں کامیابی کا سفر آسان نہیں تھا کیونکہ بولسونارو نے چار اکتوبر کو ہونے والے پہلے راؤنڈ میں برتری حاصل کی تھی۔ تاہم لولا نے سڑکوں پر احتجاج اور سوشل میڈیا مہم کے ذریعے شاندار واپسی کی۔
لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں دائیں بازو کی لہر کے برعکس لولا نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی نئی مدتِ صدارت 5 جنوری 2027 کو شروع ہوگی، جس کا آغاز اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کے ساتھ ہوگا، بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیل جو کہ تیل اور معدنیات سے مالا مال ہے، اب بھی ایک گہرے سیاسی بحران اور تقسیم کا شکار ہے، جہاں 41 فیصد سے زائد ووٹرز نے بولسونارو کو ووٹ دیا۔ اس کے علاوہ لولا کو ملک کے سب سے زیادہ دائیں بازو کے حریف کانگریس کے ساتھ حکومت چلانی ہوگی۔






