تازہ ترین
مکہ معاہدے میں شامل ممالک اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا آغازفیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی اور سعودی حکام کے ہمراہ آج تہران کا دورہ کریں گے، علی باقریبلوچستان میں گندم کا بحران شدید ہوگیا، پاسکو سے گندم کی خریداری تعطل کا شکارہواوے نے فولڈ ایبل فونز کی دنیا میں نیا انداز متعارف کروا دیا، Pura X میں کیا خاص ہے؟ منفرد فیچرز اور قیمت جانیںعلیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی میں 30 دن کی توسیعکراچی اور لاہور کی فضا شدید آلودہ ہوگئی، شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحقمعروف اینکر اقرار الحسن کی ضمانت کے لیے سیشن عدالت میں اپیل دائرواٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کروا دیامکہ معاہدے میں شامل ممالک اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا آغازفیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی اور سعودی حکام کے ہمراہ آج تہران کا دورہ کریں گے، علی باقریبلوچستان میں گندم کا بحران شدید ہوگیا، پاسکو سے گندم کی خریداری تعطل کا شکارہواوے نے فولڈ ایبل فونز کی دنیا میں نیا انداز متعارف کروا دیا، Pura X میں کیا خاص ہے؟ منفرد فیچرز اور قیمت جانیںعلیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی میں 30 دن کی توسیعکراچی اور لاہور کی فضا شدید آلودہ ہوگئی، شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحقمعروف اینکر اقرار الحسن کی ضمانت کے لیے سیشن عدالت میں اپیل دائرواٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کروا دیا
کاروبار

پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں 10 سال میں 60 فیصد کمی، کاٹن سیکٹر بحران کا شکار

کپاس کی پیداوار

پاکستان میں کپاس کی مقامی پیداوار اور معیار توقعات سے کم رہنے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران اس کی پیداوار میں 60 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاکستان کا زرعی اور کاٹن سیکٹر اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک میں کراپ زوننگ قوانین پر درست عمل درآمد نہ ہونا کپاس کی پیداوار میں ہونے والی اس بڑی کمی کی بنیاد بنا ہے۔

کاٹن زونز میں گنے کی غیر معمولی کاشت اور نئی شوگر ملوں کے قیام نے کپاس کے رقبے اور پیداوار کو سخت متاثر کیا ہے۔

کپاس کی مقامی پیداوار گرنے کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کی قیمت کی روئی اور خوردنی تیل باہر کے ممالک سے درآمد کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کی قیمت میں 200 روپے فی من کی تازہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد روئی کی فی من قیمت کم ہو کر 18 ہزار 500 روپے کی سطح پر آ گئی ہے اور کاشتکار سخت پریشانی کا شکار ہیں۔