تازہ ترین
فولڈ ایبل آئی فون سے متعلق بُری خبر آگئیشیشہ نوشی کو سگریٹ سے کم نقصان دہ سمجھنا غلط فہمی، ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیاگوادر کے سمندر میں 500 سے زائد ڈولفن کی موجودگی ریکارڈ، دلکش مناظر توجہ کا مرکز بن گئےایران میں مکہ معاہدے کے وفد کی ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کا سفارتی روڈ میپکافی پینے اور جسمانی چربی میں ممکنہ تعلق، فن لینڈ کی تحقیق میں اہم مشاہداتحادثے سے الیکشن تک، سربیا میں طلبہ نے اقتدار کا توازن کیسے بدلا؟عزم اور قربانیوں کو خراج تحسین، پاک فوج نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر پر نیا نغمہ جاری کردیاخیبرپختونخوا میں 6 سال سے زیرِ التوا منصوبہ صرف 10 دن میں مکملفولڈ ایبل آئی فون سے متعلق بُری خبر آگئیشیشہ نوشی کو سگریٹ سے کم نقصان دہ سمجھنا غلط فہمی، ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیاگوادر کے سمندر میں 500 سے زائد ڈولفن کی موجودگی ریکارڈ، دلکش مناظر توجہ کا مرکز بن گئےایران میں مکہ معاہدے کے وفد کی ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کا سفارتی روڈ میپکافی پینے اور جسمانی چربی میں ممکنہ تعلق، فن لینڈ کی تحقیق میں اہم مشاہداتحادثے سے الیکشن تک، سربیا میں طلبہ نے اقتدار کا توازن کیسے بدلا؟عزم اور قربانیوں کو خراج تحسین، پاک فوج نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر پر نیا نغمہ جاری کردیاخیبرپختونخوا میں 6 سال سے زیرِ التوا منصوبہ صرف 10 دن میں مکمل
پاکستان

صحت کارڈ پلس پروگرام؛ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور اقتدار کی ایک اور واردات سے پردہ فاش

صحت کارڈ پلس میں مجوزہ کٹوتیاں

پشاور (جی ٹی وی نیوز اردو): خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار کے دوران صحت کارڈ پلس پروگرام میں اخراجات کم کرنے کے نام پر عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی مجوزہ پالیسی کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ صحت جیسی بنیادی سہولت کے ذریعے غریب عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مریضوں سے تقریباً 9 ارب روپے وصول کرنے کی تجاویز زیرِ غور رہیں۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت 10 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں صحت کارڈ پلس کے اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں، جن میں مریضوں کی سہولتیں محدود کرنے اور علاج کے بعض اخراجات براہِ راست ان سے وصول کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

نجی ہسپتالوں میں علاج پر 20 فیصد اخراجات وصول کرنے کی تجویز

مجوزہ پالیسی کے تحت نجی ہسپتالوں میں منتخب علاج کے علاوہ مریضوں سے 20 فیصد اخراجات وصول کرنے کی تجویز سامنے آئی۔ اس اقدام سے صحت کارڈ پلس کے تحت علاج کروانے والے غریب مریضوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ تھا۔

اس کے علاوہ مہنگے اور غیر ہنگامی علاج کو صرف سرکاری ہسپتالوں تک محدود کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جس سے نجی ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں محدود ہونے کا امکان پیدا ہوا۔ صحت کارڈ پلس سے متعدد طبی سہولتیں خارج کرنے اور سرکاری ہسپتالوں کو کی جانے والی ادائیگیوں میں 10 سے 15 فیصد نظرثانی کی تجاویز بھی زیرِ غور رہیں۔

اربوں روپے کی بچت کے تخمینے

اجلاس میں مہنگے غیر ہنگامی علاج محدود کرکے 1 ارب 70 کروڑ روپے جبکہ کم پیچیدگی والے علاج صحت کارڈ پلس سے خارج کرکے 37 کروڑ 90 لاکھ روپے بچانے کا تخمینہ لگایا گیا۔ ان تجاویز کے تناظر میں سوال اٹھتا ہے کہ مالی بچت کا بوجھ غریب مریضوں پر ڈالنے سے صحت کی بنیادی سہولتوں تک ان کی رسائی کس حد تک متاثر ہوسکتی تھی۔

دستاویزات کے مطابق، شہریوں سے 9 ارب روپے وصولی سے متعلق مجوزہ تبدیلیوں کے نفاذ کے لیے وزیراعلیٰ یا صوبائی کابینہ کی باقاعدہ منظوری درکار تھی۔

گورنر راج کے بعد مجوزہ تبدیلیاں نافذ نہ ہوسکیں

ذرائع کے مطابق، لانگ مارچ کی سیاسی سرگرمیوں میں مصروفیت کے باعث سہیل آفریدی مجوزہ سمری پر دستخط نہ کرسکے۔ 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد صحت کارڈ پلس میں یہ مجوزہ تبدیلیاں نافذ نہ ہوسکیں۔

اس کے باوجود گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے صحت کارڈ پلس میں علاج کی بندش کے حوالے سے سوشل میڈیا مہم چلائی گئی۔ مجوزہ کٹوتیوں اور مریضوں سے اضافی اخراجات وصول کرنے کی تجاویز نے اس مہم کے پس منظر میں اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

صحت کارڈ پلس کے معاملے پر سامنے آنے والی یہ تفصیلات اس بحث کو نمایاں کرتی ہیں کہ پروگرام کے اخراجات کم کرنے کے لیے زیرِ غور اقدامات کا سب سے زیادہ اثر ان مریضوں پر پڑ سکتا تھا جو علاج کے لیے اس سہولت پر انحصار کرتے ہیں۔