ایک تحقیق میں کافی کے استعمال اور جسمانی چربی، پٹھوں اور میٹابولزم سے متعلق بعض اشاریوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق فن لینڈ کی یونیورسٹی آف اولو کے محققین نے 46 سال کی عمر کے 2,264 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کافی پینے کی مقدار جسمانی ساخت اور صحت کے بعض پیمانوں سے کس طرح منسلک ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں شرکا کو روزانہ کافی پینے کی مقدار کی بنیاد پر مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں کافی نہ پینے والے افراد کے ساتھ روزانہ ایک سے پانچ یا اس سے زیادہ کپ کافی استعمال کرنے والے افراد بھی شامل تھے۔
زیادہ کافی پینے والوں میں کیا فرق دیکھا گیا؟
فراہم کردہ نتائج کے مطابق زیادہ کافی پینے والے افراد میں مجموعی جسمانی چربی اور جسمانی چربی کا تناسب نسبتاً کم پایا گیا۔ ان کے جسم میں اندرونی اعضا کے گرد جمع ہونے والی چربی بھی کم تھی، جبکہ اسکیلیٹل مسلز یعنی جسم کو حرکت دینے والے عضلات کی مقدار نسبتاً زیادہ دیکھی گئی۔
تاہم، مختلف گروپوں کے باڈی ماس انڈیکس (BMI)، کمر کے گھیر اور کمر و کولہوں کے تناسب میں نمایاں فرق نہیں ملا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی ساخت کے مختلف پیمانوں پر کافی کے استعمال کے ساتھ ایک جیسا تعلق نہیں دیکھا گیا۔
امینو ایسڈز اور میٹابولزم
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ کافی پینے والے مردوں اور خواتین کے خون میں تین اہم امینو ایسڈز کی سطح نسبتاً کم تھی۔ امینو ایسڈز جسم میں پروٹین کی تشکیل اور متعدد حیاتیاتی عمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔
بعض امینو ایسڈز کی خون میں بلند سطح کو انسولین کی حساسیت میں کمی اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے سے منسلک پایا گیا ہے۔ تاہم، اس تعلق کی تشریح کرتے وقت دوسرے عوامل، مثلاً غذا، جسمانی سرگرمی، وزن اور مجموعی صحت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق مردوں میں کافی کے استعمال اور گلوکوز و انسولین کے نظم سے متعلق بعض اشاریوں کے درمیان تعلق زیادہ نمایاں تھا، جبکہ خواتین میں یہ تعلق نسبتاً محدود رہا۔
کیا کافی وزن کم کرنے کا طریقہ ہے؟
تحقیق کے نتائج کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ کافی پینے سے براہ راست جسمانی چربی کم ہوتی ہے یا میٹابولزم لازماً بہتر ہو جاتا ہے۔ اگر تحقیق میں افراد کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہو تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک عامل دوسرے میں تبدیلی کا سبب بنا۔
کافی کے ممکنہ اثرات اس کی مقدار، تیاری کے طریقے، چینی یا کریم کے استعمال اور فرد کی صحت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ زیادہ کیفین بعض افراد میں بے خوابی، بے چینی یا دل کی دھڑکن تیز ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
صحت مند وزن اور بہتر میٹابولزم کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور طبی ضروریات کے مطابق طرزِ زندگی اختیار کرنا اہم ہے۔ کافی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے اصل تحقیقی مقالے اور اس کے طریقۂ کار کا جائزہ ضروری ہے۔






