تازہ ترین
فولڈ ایبل آئی فون سے متعلق بُری خبر آگئینومبر 2026 میں بینکوں کی مسلسل تین چھٹیاں، 7 سے 9 تاریخ تک برانچز بند رہنے کا امکانشیشہ نوشی کو سگریٹ سے کم نقصان دہ سمجھنا غلط فہمی، ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیاگوادر کے سمندر میں 500 سے زائد ڈولفن کی موجودگی ریکارڈ، دلکش مناظر توجہ کا مرکز بن گئےایران میں مکہ معاہدے کے وفد کی ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کا سفارتی روڈ میپکافی پینے اور جسمانی چربی میں ممکنہ تعلق، فن لینڈ کی تحقیق میں اہم مشاہداتحادثے سے الیکشن تک، سربیا میں طلبہ نے اقتدار کا توازن کیسے بدلا؟عزم اور قربانیوں کو خراج تحسین، پاک فوج نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر پر نیا نغمہ جاری کردیافولڈ ایبل آئی فون سے متعلق بُری خبر آگئینومبر 2026 میں بینکوں کی مسلسل تین چھٹیاں، 7 سے 9 تاریخ تک برانچز بند رہنے کا امکانشیشہ نوشی کو سگریٹ سے کم نقصان دہ سمجھنا غلط فہمی، ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیاگوادر کے سمندر میں 500 سے زائد ڈولفن کی موجودگی ریکارڈ، دلکش مناظر توجہ کا مرکز بن گئےایران میں مکہ معاہدے کے وفد کی ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کا سفارتی روڈ میپکافی پینے اور جسمانی چربی میں ممکنہ تعلق، فن لینڈ کی تحقیق میں اہم مشاہداتحادثے سے الیکشن تک، سربیا میں طلبہ نے اقتدار کا توازن کیسے بدلا؟عزم اور قربانیوں کو خراج تحسین، پاک فوج نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر پر نیا نغمہ جاری کردیا
دلچسپ و عجیب

گوادر کے سمندر میں 500 سے زائد ڈولفن کی موجودگی ریکارڈ، دلکش مناظر توجہ کا مرکز بن گئے

گوادر میں ڈولفن کی موجودگی

گوادر (جی ٹی وی نیوز اردو): بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے سمندر میں ڈولفن کے ایک بڑے گروہ کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہی گیری کے دوران کشتی کے قریب 500 سے زائد ڈولفن کو پانی سے باہر چھلانگیں لگاتے دیکھا گیا، جس سے ساحلی پانیوں میں سمندری حیات کی سرگرمیاں توجہ کا مرکز بن گئیں۔

گوادر کے ساحلی پانیوں میں ڈولفن کی بڑی تعداد میں موجودگی کو سمندری ماحول اور حیاتیاتی تنوع کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈولفن کی یہ قسم سائنسی طور پر Tursiops aduncus کہلاتی ہے اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں سمیت بحیرہ عرب کے پانیوں میں پائی جاتی ہے۔

پاکستان کے ساحلی پانی مختلف اقسام کی سمندری حیات کا مسکن ہیں۔ ڈولفن کے علاوہ یہاں کچھوے، وہیل اور دیگر سمندری جانور بھی پائے جاتے ہیں، جو سمندری ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان انواع کا تحفظ ساحلی ماحول میں قدرتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

 

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے اور اس سلسلے میں ماہی گیروں سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔ سمندری جانوروں کی موجودگی، ان کے قدرتی مسکن کے تحفظ اور ماہی گیری کے ذمہ دارانہ طریقوں کو فروغ دینے کے لیے مختلف فریقوں کا تعاون اہم سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کے ساحلی پانیوں میں ڈولفن سمیت سیٹیشینز کی 26 اقسام پائی جاتی ہیں۔ سیٹیشینز میں ڈولفن اور وہیل جیسے سمندری ممالیہ جانور شامل ہیں، جن کا تحفظ سمندری حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔

گوادر میں 500 سے زائد ڈولفن کی موجودگی سمندری حیات کی سرگرمیوں کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ماہرین ماحولیات کے نزدیک سمندری مخلوقات کے قدرتی مسکن کا تحفظ اور ساحلی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال آنے والی نسلوں کے لیے سمندری ماحول کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔