کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں تاکہ عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرائی جا سکے اور یہ واضح کیا جا سکے کہ کشمیری عوام اپنی سرزمین پر حقِ خودارادیت چاہتے ہیں۔
برصغیر کی تقسیم کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ کے متنازعہ فیصلوں نے ریاست جموں وکشمیر کو سنگین سیاسی بحران سے دوچارکیا۔ 26 اکتوبر1947 کو ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے متنازعہ الحاق کے اگلے روز بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوگئیں۔
پاکستان اور کشمیری قیادت نے اس الحاق کو عوامی امنگوں کے منافی قرار دیا، جبکہ بھارتی غاضبانہ رویے کے باعث تنازع کشمیر نے جنم لیا۔ مسئلہ کشمیر محض فوجی یا سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور نسلوں کی قربانیوں کی داستان ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود تنازعِ کشمیر دہائیوں سے پائیدار حل کا منتظر ہے۔
آج یومِ سیاہ کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری برادری بھی ریلیاں اور احتجاجی سرگرمیاں منعقد کرے گی۔
ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے حل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کرنا ہے۔
مظفرآباد میں یومِ سیاہ کی مناسبت سے شاہراہ سری نگر پر کنٹرول لائن کی جانب مارچ کیا جائے گا اور شرکا ضلع جہلم ویلی کے علاقے ہٹیاں بالا میں بھارت کے خلاف احتجاج کریں گے۔
آزاد جموں و کشمیر کے تمام ضلعی صدر مقامات پر بھارتی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں گے اور دارالحکومت میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور حکومت آزاد کشمیر کے اشتراک سے یومِ سیاہ منایا جائے گا۔
کشمیری عوام نے بھارتی فوجی حاکمیت کو کبھی قبول نہیں کیا ہے اور آزادی و حقِ خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام آج بھی بھارتی جبر، انسانی حقوق کی پامالیوں اور فوجی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ یومِ سیاہ پر سیاہ جھنڈے لہرائے جائیں گے اور بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔
لندن، برمنگھم، بریڈفورڈ، مانچسٹر اور ٹورنٹو میں مقیم کشمیری بھی بھارتی فوجی قبضے کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔
کشمیری عوام کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دلانے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔






