تازہ ترین
سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے کا ہوگیاسیکورٹی فورسز کے ضلع کچھی اور وڈھ میں آپریشنز، فتنہ الہندوستان کے 9 دہشت گرد جہنم واصلپیسکو ملازمین کے میڈیکل کلیمز کے طریقہ کار میں تبدیلی، یکم دسمبر سے نیا نظام نافذ ہوگااسٹیج پر فلسطینی پرچم؛ فضا میں آزادی کے نعرے! میکلمور نے خاموش رہنے سے انکار کردیا، فلسطین کیلئے آخری سانس تک آواز اٹھانے کا اعلانطلبہ اور والدین کیلئے بڑی خبر!!! اسموگ کے باعث اسکول بند ہوں گے؟ اہم خبر آگئیامریکا کے زوال سے ایٹمی تباہی تک!!!! امریکا کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے؟ ایٹمی جنگ سمیت 3 خوفناک پیشگوئیاں سامنے آگئیںنااہل پی ٹی آئی کے طویل دور اقتدار کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محرومسوشل میڈیا پر کون سے 3 کام آپ کو NCCIA کے ریڈار پر لاسکتے ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیںسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے کا ہوگیاسیکورٹی فورسز کے ضلع کچھی اور وڈھ میں آپریشنز، فتنہ الہندوستان کے 9 دہشت گرد جہنم واصلپیسکو ملازمین کے میڈیکل کلیمز کے طریقہ کار میں تبدیلی، یکم دسمبر سے نیا نظام نافذ ہوگااسٹیج پر فلسطینی پرچم؛ فضا میں آزادی کے نعرے! میکلمور نے خاموش رہنے سے انکار کردیا، فلسطین کیلئے آخری سانس تک آواز اٹھانے کا اعلانطلبہ اور والدین کیلئے بڑی خبر!!! اسموگ کے باعث اسکول بند ہوں گے؟ اہم خبر آگئیامریکا کے زوال سے ایٹمی تباہی تک!!!! امریکا کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے؟ ایٹمی جنگ سمیت 3 خوفناک پیشگوئیاں سامنے آگئیںنااہل پی ٹی آئی کے طویل دور اقتدار کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محرومسوشل میڈیا پر کون سے 3 کام آپ کو NCCIA کے ریڈار پر لاسکتے ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
سائنس و ٹیکنالوجی

سوشل میڈیا پر کون سے 3 کام آپ کو NCCIA کے ریڈار پر لاسکتے ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سوشل میڈیا پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی نگرانی تیز کردی ہے۔

 رپورٹس کے مطابق ادارہ ایسی آن لائن سرگرمیوں پر توجہ دے رہا ہے جو قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اس حوالے سے صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کی جانے والی بعض پوسٹس اور سرگرمیاں قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہیں۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق این سی سی آئی اے کی سائبر پٹرولنگ کے دوران تین اہم شعبوں پر توجہ دی جارہی ہے۔ ان میں ریاست مخالف غیر قانونی مواد، آن لائن ہراسانی اور غیر قانونی کال سینٹرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن فراڈ اور مالی دھوکا دہی بھی سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت احتیاط کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ معلومات کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔

1۔ ریاست مخالف غیر قانونی مواد کی نگرانی

این سی سی آئی اے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی پوسٹس، پیغامات اور آن لائن مہمات کی نگرانی کررہی ہے۔ خاص طور پر ایسے مواد پر توجہ دی جارہی ہے جو قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاسکتا ہے یا ریاست اور قومی مفادات کو نشانہ بناتا ہو۔

صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کوئی بھی خبر یا معلومات شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔ سوشل میڈیا پر موجود ہر دعویٰ درست نہیں ہوتا۔ بعض اوقات غلط یا گمراہ کن معلومات تیزی سے پھیل جاتی ہیں اور اس سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔

تاہم، کسی پوسٹ یا بیان کے قانونی نتائج کا انحصار اس کے اصل مواد اور متعلقہ قانون پر ہوتا ہے۔ محض کسی ریاستی پالیسی پر تنقید یا اختلاف کو خودبخود غیر قانونی سرگرمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

2۔ آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ پر کارروائی

این سی سی آئی اے کی توجہ کا دوسرا اہم شعبہ آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، بلیک میلنگ اور کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی غیر قانونی کوششیں ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی شخص کو دھمکانا، مسلسل ہراساں کرنا یا اس کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانا، کسی کی نجی تصاویر اس کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا یا تصاویر اور ذاتی معلومات کے ذریعے بلیک میل کرنا بھی قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں متاثرہ شخص کو متعلقہ شواہد محفوظ رکھنے چاہییں۔ ان میں پیغامات، اکاؤنٹ کے لنکس، اسکرین شاٹس اور دیگر متعلقہ معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔

شہریوں کو چاہیے کہ وہ آن لائن ہراسانی کا سامنا ہونے پر معاملے کو نظر انداز نہ کریں۔ مشتبہ اکاؤنٹ کی رپورٹ متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور مجاز ادارے کو کی جاسکتی ہے۔ شکایت کرتے وقت درست معلومات اور دستیاب شواہد فراہم کرنا اہم ہے۔

3۔ آن لائن فراڈ اور مالی دھوکا دہی کی نگرانی

آن لائن فراڈ بھی سائبر کرائم کی ایک اہم قسم ہے۔ دھوکا دینے والے افراد سوشل میڈیا پر جعلی پروفائلز، فرضی سرمایہ کاری اسکیموں، جعلی آن لائن شاپنگ پیجز اور گمراہ کن اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بعض افراد کم وقت میں زیادہ منافع دینے کا وعدہ کرکے شہریوں سے رقم وصول کرتے ہیں، جبکہ بعض جعلی کاروباری صفحات کے ذریعے ادائیگی لینے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔

صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی نامعلوم شخص یا مشتبہ ویب سائٹ کے ساتھ اپنی بینکنگ معلومات شیئر نہ کریں۔ اپنا پاس ورڈ، پن کوڈ اور ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) کسی دوسرے شخص کو بتانے سے گریز کریں۔ کسی بھی سرمایہ کاری یا آن لائن خریداری سے پہلے متعلقہ ادارے اور فروخت کنندہ کی ساکھ کی جانچ کرنا بھی ضروری ہے۔

اگر کسی شخص کے ساتھ مالی فراڈ ہوجائے تو اسے لین دین کی رسیدیں، پیغامات اور دیگر شواہد محفوظ رکھنے چاہییں۔ مشتبہ اکاؤنٹ اور فراڈ کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینا ضروری ہے تاکہ معاملے کی تحقیقات کی جاسکیں۔

این سی سی آئی اے کا شہریوں کو اہم مشورہ

این سی سی آئی اے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا ذمہ داری سے استعمال کریں۔ کسی بھی خبر کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں اور دوسروں کی نجی معلومات کا احترام کریں۔ نامعلوم لنکس کھولنے، مشکوک پیشکشوں پر یقین کرنے اور ذاتی معلومات غیر متعلقہ افراد کو فراہم کرنے سے بھی بچیں۔

رپورٹس کے مطابق شہری سائبر کرائم سے متعلق رہنمائی یا شکایت کے لیے این سی سی آئی اے کی ہیلپ لائن 1799 سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ شکایت درج کرانے سے پہلے متعلقہ رابطہ نمبر اور طریقہ کار کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنا بہتر ہے۔