اسرائیل کے 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد عرب جماعتیں توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق عرب جماعتیں مجموعی طور پر 17 سے 18 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے حامی اتحاد اور ان کے مخالف سیاسی بلاک میں سے کوئی بھی واضح اکثریت حاصل کرتا نظر نہیں آ رہا۔ ایسے میں عرب جماعتوں کی حمایت نئی حکومت بنانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ایگزٹ پولز حتمی نتائج نہیں ہوتے اور ووٹوں کی گنتی کے بعد نشستوں کی تعداد تبدیل ہو سکتی ہے۔
اس سیاسی صورت حال میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اسرائیل میں آباد عرب شہری کون ہیں اور ان کی سیاسی اہمیت کیوں بڑھ رہی ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسرائیل کے تمام عرب شہری مسلمان ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ وہاں عرب مسلمانوں کے ساتھ عیسائی اور دروز برادری کے افراد بھی آباد ہیں۔ ان کی مذہبی شناخت، سیاسی سوچ اور انتخابی ترجیحات ایک جیسی نہیں ہیں۔
اسرائیل کے عرب شہری کون ہیں؟
اسرائیلی عرب شہریوں کی بڑی تعداد ان فلسطینی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے جو 1948 میں اسرائیل کے قیام اور اس کے بعد ہونے والی جنگ کے دوران اپنے علاقوں میں موجود رہے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بہت سے افراد اور ان کی اولاد کو اسرائیلی شہریت حاصل ہوئی۔ آج وہ اسرائیل کے شہری ہیں اور قانون کے مطابق قومی انتخابات میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
ان میں سے کئی افراد اپنی شناخت کے لیے اسرائیل کے فلسطینی شہری یا فلسطینی عرب شہری کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ان کی شناخت میں عربی زبان، فلسطینی تاریخ، ثقافت اور اسرائیلی شہریت سب شامل ہیں۔ اسرائیل کی مجموعی آبادی میں عرب شہریوں کا حصہ تقریباً 21 فیصد بتایا جاتا ہے۔
اسرائیلی شہریت اور ووٹ کا حق رکھنے کے باوجود عرب آبادی کو مختلف سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں بعض علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، روزگار کے مواقع اور ترقیاتی وسائل کی غیر مساوی تقسیم جیسے معاملات شامل ہیں۔ یہی مسائل عرب جماعتوں کی انتخابی مہم میں بھی اہم مقام رکھتے ہیں۔
عرب جماعتیں کتنی اہم ہیں؟
اسرائیل کی سیاست میں عرب جماعتیں طویل عرصے سے حصہ لے رہی ہیں۔ ان کا مقصد عرب شہریوں کے حقوق، مساوات، روزگار، تعلیم اور مقامی مسائل کو پارلیمان میں اٹھانا ہے۔ مختلف ادوار میں ان جماعتوں نے اتحاد بنا کر انتخابات میں حصہ لیا، جبکہ بعض نے الگ سیاسی راستہ اختیار کیا۔
عرب سیاست میں نمایاں ناموں میں حدش، تعل، بلد اور رعام شامل ہیں۔ ان جماعتوں کے نظریات اور سیاسی حکمت عملی میں فرق پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تمام عرب ووٹرز کسی ایک جماعت کی حمایت نہیں کرتے۔
حدش ایک بائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے جو عرب اور یہودی شہریوں کے درمیان مساوات، مزدوروں کے حقوق اور سماجی انصاف پر زور دیتی ہے۔ اس میں عرب شہریوں کے ساتھ یہودی بائیں بازو کے کارکن بھی شامل رہے ہیں۔
تعل کو معروف عرب رہنما احمد طیبی سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ جماعت فلسطینیوں کے شہری حقوق اور اسرائیل میں پارلیمانی سیاست کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرنے پر توجہ دیتی ہے۔ احمد طیبی اسرائیلی سیاست میں عرب شہریوں کے حقوق کے حوالے سے ایک نمایاں آواز سمجھے جاتے ہیں۔
بلد اسرائیل کی ریاستی شناخت اور قومی حقوق کے سوال پر مختلف موقف رکھتی ہے۔ یہ جماعت ایسی ریاست کی حمایت کرتی ہے جہاں عرب اور یہودی شہریوں کو مساوی قومی حقوق حاصل ہوں۔ اس کے نظریات اسرائیل کی یہودی قومی شناخت پر مبنی سیاست سے مختلف ہیں۔
دوسری جانب رعام کے سربراہ منصور عباس ہیں۔ یہ جماعت دیگر عرب جماعتوں سے الگ سیاسی حکمت عملی اختیار کرتی رہی ہے۔ رعام نے ماضی میں حکومتی اتحاد میں شامل ہو کر اسرائیلی سیاست میں ایک اہم مثال قائم کی تھی۔ اس کا سیاسی طریقہ کار دیگر عرب جماعتوں سے مختلف ہے، کیونکہ یہ بعض معاملات میں حکومت سازی کے لیے عملی مذاکرات کو اہمیت دیتی ہے۔
اسرائیل میں عرب آبادی صرف مسلمانوں پر مشتمل نہیں
اسرائیل کے عرب شہری مختلف مذہبی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، جبکہ عیسائی اور دروز شہری بھی عرب آبادی کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی اسرائیل کے صحرائے نقب میں بدو برادری کے بہت سے خاندان آباد ہیں۔
عرب مسلمان شمالی اور وسطی اسرائیل کے مختلف شہروں اور قصبوں میں رہتے ہیں۔ ناصرت اور ام الفحم عرب آبادی کے معروف مراکز ہیں۔ تاہم ان علاقوں میں رہنے والے تمام افراد کی سیاسی ترجیحات ایک جیسی نہیں۔ کچھ ووٹرز عرب جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ دوسرے اسرائیل کی مختلف یہودی یا مخلوط جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔
عرب عیسائی بھی اسرائیلی معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی بڑی تعداد حیفہ، الجلیل اور دوسرے شمالی علاقوں میں آباد ہے۔ اس برادری کے اندر بھی سیاسی سوچ میں فرق پایا جاتا ہے۔ بعض افراد بائیں بازو کی جماعتوں کے قریب ہیں، جبکہ دوسرے مختلف سیاسی گروہوں کی حمایت کرتے ہیں۔
دروز برادری کی شناخت اور سیاسی حیثیت بھی الگ نوعیت رکھتی ہے۔ بہت سے دروز اسرائیلی شہریت رکھتے ہیں اور دروز مردوں پر اسرائیل میں فوجی خدمت کی لازمی شرط بھی لاگو ہوتی ہے۔ اس برادری کے بعض افراد مرکزی یہودی جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ دوسرے عرب شناخت اور مساوی حقوق سے متعلق سیاسی مطالبات کے قریب ہیں۔
اس لیے اسرائیل میں عرب ووٹرز کو ایک ہی مذہب یا سیاسی نظریے کے تحت دیکھنا درست نہیں۔ ان کے ووٹ پر مقامی مسائل، مذہبی شناخت، معاشی ضروریات اور سیاسی جماعتوں کے پروگرام اثر انداز ہوتے ہیں۔
اسرائیل کا انتخابی نظام کیسے کام کرتا ہے؟
اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے۔ ملک کی پارلیمان کو کنیسٹ کہا جاتا ہے اور اس میں مجموعی طور پر 120 نشستیں ہیں۔ سیاسی جماعتیں ملک بھر میں حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب کے مطابق پارلیمان میں نشستیں حاصل کرتی ہیں۔
حکومت بنانے کے لیے عموماً 120 رکنی پارلیمان میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اگر کسی جماعت یا سیاسی اتحاد کو یہ اکثریت حاصل نہ ہو تو اسے دوسری جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے کم نشستیں حاصل کرنے والی جماعتیں بھی بعض اوقات حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ماضی میں عرب جماعتوں نے مشترکہ اتحاد کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ 2015 کے انتخابات میں جوائنٹ لسٹ نے 13 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ 2020 میں اس کی نشستوں کی تعداد 15 تک پہنچ گئی تھی۔ 2021 میں منصور عباس کی جماعت رعام نے ایک مخلوط حکومتی اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ اس پیش رفت نے عرب جماعتوں کے ممکنہ سیاسی کردار کو مزید نمایاں کر دیا۔
2026 کے انتخابات میں عرب جماعتوں کا کردار
27 اکتوبر 2026 کے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے بڑے ٹی وی اداروں کے ایگزٹ پولز میں عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 17 سے 18 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ مختلف اداروں کے اندازوں میں فرق موجود ہے، لیکن ابتدائی نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عرب ووٹرز کی شرکت اور عرب جماعتوں کی نشستیں حکومت سازی پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق نیتن یاہو کی قیادت میں حکومتی اتحاد اور ان کے مخالف اتحاد میں سے کوئی بھی واضح طور پر 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس لیے دونوں جانب کے رہنماؤں کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا اہم ہو گیا ہے۔
نیتن یاہو نے اپنی سیاسی مہم کے دوران عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کی۔ ان کا موقف رہا ہے کہ وہ عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کے حق میں نہیں۔ دوسری طرف ان کے مخالفین کے لیے بھی عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا آسان نہیں، کیونکہ ان کے اپنے سیاسی اتحادیوں میں اس معاملے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
اپوزیشن کے نمایاں رہنما گاڈی آئزن کوٹ کے لیے بھی یہی سوال اہم ہے کہ آیا وہ عرب جماعتوں کی حمایت سے پارلیمانی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر اپوزیشن بلاک کو عرب جماعتوں کی حمایت مل جاتی ہے تو اس کی حکومت سازی کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ سیاسی مذاکرات اور جماعتوں کے باقاعدہ موقف پر منحصر ہوگا۔
منصور عباس کا موقف اور آئندہ سیاسی صورت حال
رعام کے سربراہ منصور عباس کی جماعت بھی حکومت سازی کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ عرب جماعتوں کی نشستوں میں اضافے کے امکان نے ان کی سیاسی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اگر دونوں بڑے سیاسی بلاک اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو رعام اور جوائنٹ لسٹ جیسی جماعتوں کی حمایت پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
تاہم عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا خود بخود حکومت بنانے کی ضمانت نہیں ہوگا۔ متعلقہ جماعتوں کو اپنے سیاسی اختلافات کم کرنا ہوں گے اور حکومت کے پروگرام پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہوگا کہ ممکنہ اتحاد کو پارلیمان میں درکار ارکان کی حمایت حاصل ہو۔
انتخابی عمل کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ ایگزٹ پولز اور سرکاری نتائج میں فرق ہو سکتا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے 2026 کے انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان 4 نومبر کو متوقع ہے۔ اس کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی مذاکرات آگے بڑھیں گے۔
اگر کوئی سیاسی بلاک 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو وہ حکومت بنانے کی کوشش کر سکے گا۔ بصورت دیگر سیاسی تعطل برقرار رہ سکتا ہے اور دوبارہ انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عرب شہری ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی نمائندگی صرف مذہبی شناخت تک محدود نہیں، بلکہ شہری حقوق، معاشی مساوات اور ریاستی پالیسیوں جیسے معاملات بھی ان کی سیاسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عرب جماعتیں اپنے بڑھتے ہوئے پارلیمانی کردار کو کس طرح استعمال کرتی ہیں اور آیا وہ اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل پر فیصلہ کن اثر ڈال پاتی ہیں یا نہیں۔






