برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق خلیجی خطے میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اب کوئی نئی جنگ چھڑی تو وہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تنازع کے حل کے لیے ایک جامع منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور عالمی بحری آمدورفت کے لیے اہم راستے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجاویز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کو اگلے 4 روز کے اندر کھولنے کے لیے ایک خاص معاہدے پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ اس سفارتی منصوبے کے تحت یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا کے حوالے سے بھی بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وہ یمن سے اپنا قبضہ ختم کر دے گی۔






