تازہ ترین
یوٹیوب سے پیسے کمانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیپنجاب کے چھوٹے کسانوں کے لیے 3 کروڑ روپے تک بلاسود قرضوں کا اعلانپاکستان میں بینکوں کے نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے ہوگئیبھارتی پیرا ایتھلیٹ نیرج یادیو نئی دہلی میں گھر پر مردہ پائے گئےجرمن ادارے کا سندھ میں 300 چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی مالی معاونت کا اعلانپنڈی بھٹیاں کے قریب مسافر بس سیم نالے میں جا گری، 5 افراد جاں بحقایل پی جی کی قیمتوں کا فارمولا بھی پیٹرولیم مصنوعات کی طرز پر طے کرنے کا فیصلہبشریٰ بی بی، اسد قیصر اور جنید اکبر سمیت معتدد پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارجیوٹیوب سے پیسے کمانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیپنجاب کے چھوٹے کسانوں کے لیے 3 کروڑ روپے تک بلاسود قرضوں کا اعلانپاکستان میں بینکوں کے نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے ہوگئیبھارتی پیرا ایتھلیٹ نیرج یادیو نئی دہلی میں گھر پر مردہ پائے گئےجرمن ادارے کا سندھ میں 300 چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی مالی معاونت کا اعلانپنڈی بھٹیاں کے قریب مسافر بس سیم نالے میں جا گری، 5 افراد جاں بحقایل پی جی کی قیمتوں کا فارمولا بھی پیٹرولیم مصنوعات کی طرز پر طے کرنے کا فیصلہبشریٰ بی بی، اسد قیصر اور جنید اکبر سمیت معتدد پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج
کاروبار

جرمن ادارے کا سندھ میں 300 چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی مالی معاونت کا اعلان

جرمن ادارے

جرمن ادارے جی آئی زیڈ نے سندھ میں 300 چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

کراچی میں سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عقیلی سے جرمن ادارے جی آئی زیڈ کی پراجیکٹ ڈائریکٹر یولیا بازینوا کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں سندھ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو تکنیکی و مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

جی آئی زیڈ کی پراجیکٹ ڈائریکٹر یولیا بازینوا نے اعلان کیا کہ ان کا ادارہ سندھ میں 300 کاروباری اداروں کو مالی و تکنیکی سپورٹ فراہم کرے گا۔

سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عقیلی کے مطابق ملاقات میں ان صنعتوں کو ماحولیاتی معیار کے مطابق ڈھالنے، صنعتی آلودگی کم کرنے اور گرین فنانسنگ فراہم کرنے پر اتفاق ہوا۔

سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور جی آئی زیڈ کی ٹیموں میں رابطہ کاری بڑھانے اور مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

فیصل عقیلی نے بتایا کہ سیپا کا کام قانون نافذ کرنے کے ساتھ صنعتوں کی رہنمائی کرنا بھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ ماحولیات کا 70 فیصد عمل ڈیجیٹلائز ہو چکا ہے اور انسپکٹرز کے دوروں، ادائیگیوں اور این او سیز کا نظام بھی ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ یولیا بازینوا نے سندھ حکومت کے تعاون اور معلومات کے تبادلے کی تعریف کی۔