تازہ ترین
یوٹیوب سے پیسے کمانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیپنجاب کے چھوٹے کسانوں کے لیے 3 کروڑ روپے تک بلاسود قرضوں کا اعلانپاکستان میں بینکوں کے نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے ہوگئیبھارتی پیرا ایتھلیٹ نیرج یادیو نئی دہلی میں گھر پر مردہ پائے گئےجرمن ادارے کا سندھ میں 300 چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی مالی معاونت کا اعلانپنڈی بھٹیاں کے قریب مسافر بس سیم نالے میں جا گری، 5 افراد جاں بحقایل پی جی کی قیمتوں کا فارمولا بھی پیٹرولیم مصنوعات کی طرز پر طے کرنے کا فیصلہبشریٰ بی بی، اسد قیصر اور جنید اکبر سمیت معتدد پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارجیوٹیوب سے پیسے کمانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیپنجاب کے چھوٹے کسانوں کے لیے 3 کروڑ روپے تک بلاسود قرضوں کا اعلانپاکستان میں بینکوں کے نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے ہوگئیبھارتی پیرا ایتھلیٹ نیرج یادیو نئی دہلی میں گھر پر مردہ پائے گئےجرمن ادارے کا سندھ میں 300 چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی مالی معاونت کا اعلانپنڈی بھٹیاں کے قریب مسافر بس سیم نالے میں جا گری، 5 افراد جاں بحقایل پی جی کی قیمتوں کا فارمولا بھی پیٹرولیم مصنوعات کی طرز پر طے کرنے کا فیصلہبشریٰ بی بی، اسد قیصر اور جنید اکبر سمیت معتدد پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج
تعلیم

پنجاب کے مزید 6 ہزار 460 سرکاری اسکول ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ

محکمہ تعلیم پنجاب نے سرکاری اسکولوں کو ٹھیکے پر دینے کے منصوبے کے چوتھے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔

 اس مرحلے میں صوبے بھر کے مزید 6 ہزار 460 سرکاری اسکول ٹھیکے پر دیے جائیں گے۔ اس بار پہلی مرتبہ 600 ہائی اسکولوں کو بھی منصوبے میں شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس اقدام کے بعد پنجاب کے سرکاری اسکولوں کے نظام میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق چوتھے مرحلے کے تحت 5 ہزار 860 پرائمری اور مڈل اسکولوں کو ٹھیکے پر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 600 ہائی اسکول بھی اس منصوبے کا حصہ بنانے کی تجویز ہے۔ یوں اس مرحلے میں مجموعی طور پر 6 ہزار 460 سرکاری اسکولوں کو ٹھیکے پر دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی اسکولوں کو اس منصوبے میں شامل کرنے کی تجویز کی اہم وجوہات میں اسکولوں کی عمارتوں اور دیگر سہولتوں کی خراب حالت شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض اسکولوں میں طلبہ کے داخلوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ اسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی اسکولوں کو بھی منصوبے میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے پنجاب میں سرکاری اسکولوں کو ٹھیکے پر دینے کے تین مراحل مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ان مراحل کے دوران مجموعی طور پر 13 ہزار 600 سرکاری اسکول ٹھیکے پر دیے گئے تھے۔ اب چوتھے مرحلے میں مزید ہزاروں اسکولوں کو اس منصوبے میں شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق چوتھے مرحلے کی تکمیل کے بعد پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد 38 ہزار سے کم ہو کر تقریباً 31 ہزار 500 رہ جانے کا امکان ہے۔ اس طرح صوبے میں سرکاری سکولوں کی تعداد میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

سرکاری اسکولوں کو ٹھیکے پر دینے کے اس منصوبے کا اگلا مرحلہ تعلیمی شعبے میں اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس اقدام کے نتائج کا انحصار اسکولوں کے انتظامی معاملات، تعلیمی معیار اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتوں پر ہوگا۔ فی الحال چوتھے مرحلے میں شامل کیے جانے والے اسکولوں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔