براک اوباما نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کی جانے والی جنگ نے امریکہ کو مزید غیر محفوظ اور کمزور بنا دیا ہے۔
3 نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے سلسلے میں جورجیا کے شہر مورو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر براک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کی منطق پر سخت تنقید کی۔
اوباما نے کہا کہ تہران کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں تھے اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے 2015 میں کیے گئے معاہدے نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کر رکھا تھا۔ مجھے کوئی میزائل نہیں چلانا پڑا، میں نے سفارت کاری سے کام لیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں ہمارے اتحادیوں اور اڈوں پر حملے ہوئے ہیں، امریکی مارے گئے ہیں اور سینکڑوں امریکی زخمی ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس میزائلوں کا ذخیرہ کم ہو گیا ہے، جس سے ہم زیادہ غیر محفوظ ہو گئے ہیں اور اب آبنائے ہرمز پر ایران کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔






