پاکستان میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔
وزارت پیٹرولیم نے ایل پی جی کی قیمتوں کے لیے نیا فارمولا بنانے پر کام شروع کیا ہے۔ اس کا مقصد قیمتوں میں بے جا اضافے کو روکنا اور مارکیٹ میں گیس کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت ایل پی جی کی قیمتیں پیٹرولیم مصنوعات کی طرح ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی پالیسی میں امپورٹ پیریٹی پرائس (درآمدی قیمت) کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اس طریقہ کار میں درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت طے کی جاتی ہے۔ اس میں عالمی مارکیٹ کی قیمت، نقل و حمل اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔ حکام کا مقصد ایسا نظام بنانا ہے جس سے ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ محدود ہو اور صارفین کو قیمتوں میں زیادہ استحکام مل سکے۔
مجوزہ پالیسی پر عمل درآمد سے پہلے اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ سے منظوری لینا ہوگی۔ منظوری کے بعد ہی نئی پالیسی کے نفاذ اور قیمتوں کے تعین کے حتمی طریقہ کار کے بارے میں واضح صورت حال سامنے آئے گی۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانی روکنے کی تیاری
پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتیں مختلف شہروں میں نمایاں فرق کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔ سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت میں بھی فرق دیکھا جاتا ہے۔ نئی پالیسی کا ایک مقصد مصنوعی قلت اور من مانی قیمتوں پر قابو پانا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے فارمولے کے ذریعے ہر ماہ ایل پی جی کی قیمت مقرر کرنے کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ اس سے قیمتوں کے تعین میں ایک واضح اصول اپنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، قیمتوں میں حقیقی کمی یا صارفین کو ملنے والے فائدے کا انحصار حتمی پالیسی، درآمدی لاگت اور مارکیٹ میں اس پر عمل درآمد پر ہوگا۔
مجوزہ نظام کے تحت درآمدی ایل پی جی کی قیمت میں سمندری نقل و حمل اور انشورنس کے اخراجات بھی شامل کیے جائیں گے۔ اس طرح درآمد سے متعلق مختلف اخراجات کو قیمتوں کے فارمولے میں جگہ دی جا سکے گی۔
پاکستان میں ایل پی جی کی درآمد کا منصوبہ
پاکستان اپنی ایل پی جی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ ملک کی تقریباً 70 فیصد ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے، جبکہ اس کا بڑا حصہ زمینی راستے سے پہنچتا ہے۔
اب مستقبل میں ایل پی جی کی درآمد کے لیے سمندری راستہ استعمال کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب اور عمان سے گیس درآمد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سمندری راستے سے درآمد کے ممکنہ اثرات کا انحصار خریداری کی قیمت، جہاز رانی، انشورنس اور دیگر اخراجات پر ہوگا۔
ایل پی جی کی قیمت کا تعلق پہلے ہی سعودی آرامکو کی مقرر کردہ قیمت سے جوڑا جاتا ہے۔ نئے فارمولے میں درآمدی اخراجات کو شامل کرنے سے قیمتوں کے تعین کا طریقہ مزید واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اکتوبر میں ایل پی جی کی سرکاری قیمت کتنی ہے؟
اکتوبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر ہے۔ اس کے باوجود ملک کے مختلف شہروں میں صارفین کو یہ گیس تقریباً 600 سے 650 روپے فی کلو تک میں فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس فرق کی وجوہات میں مقامی سپلائی، نقل و حمل، تقسیم اور قیمتوں پر عمل درآمد جیسے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔
لاہور میں درآمدی ایل پی جی کی سپلائی کے بعد قیمت میں کمی کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر میں فی کلو قیمت 50 روپے کم ہو کر تقریباً 550 روپے ہو گئی ہے۔ تاہم، یہ قیمت مقامی مارکیٹ کی رپورٹ کردہ شرح ہے اور دوسرے شہروں میں نرخ مختلف ہو سکتے ہیں۔
نئی پالیسی سے صارفین کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
اگر نئی پالیسی کی منظوری مل جاتی ہے اور اس پر مؤثر انداز میں عمل کیا جاتا ہے تو ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت بڑھ سکتی ہے۔ ماہانہ قیمت مقرر کرنے کا واضح طریقہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی قلت اور مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے خلاف کارروائی کرنا بھی آسان ہو سکتا ہے۔






