پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیلئے ہدفی سبسڈی کا دائرہ بڑھانے پر پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اصولی طور پر اس تجویز پر غور کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ موجودہ سبسڈی پروگرام میں مزید 50 لاکھ افراد کو شامل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ڈیزل کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنانے پر بات چیت جاری ہے۔ اگر دونوں فریقوں کی تکنیکی کمیٹیاں کسی متفقہ فارمولے پر پہنچ گئیں تو اہل افراد کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔ دونوں جانب سے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ریلیف دینے کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم سبسڈی کے طریقہ کار اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے انتخاب پر ابھی مزید مشاورت ہونا باقی ہے۔
ہدفی سبسڈی یا تمام صارفین کیلئے ریلیف؟
مذاکرات کے دوران سب سے اہم اختلاف سبسڈی کی نوعیت پر سامنے آیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت تمام صارفین کو یکساں سبسڈی دینا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ امیر اور کم آمدن والے افراد دونوں کو یکساں طور پر دیا جائے تو اس پر سرکاری اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور آئی ایم ایف پروگرام بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اسی لیے حکومت ہدفی سبسڈی کے طریقہ کار کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس نظام کے تحت صرف مخصوص شرائط پر پورا اترنے والے افراد کو مالی ریلیف دیا جاتا ہے۔ حکومت موجودہ پیٹرول سبسڈی پروگرام میں مزید 50 لاکھ افراد کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پرانے ماڈل کی مزید موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
جماعت اسلامی کا ڈیزل پر سبسڈی دینے کا مطالبہ
جماعت اسلامی نے مذاکرات میں مطالبہ کیا کہ سبسڈی کا فائدہ صرف پیٹرول تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ڈیزل کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ زرعی شعبہ ڈیزل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ٹریکٹر، زرعی مشینری اور دیگر ضروری کاموں میں ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ اس کی قیمت بڑھنے سے کسانوں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا اثر زرعی پیداوار اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ڈیزل کو بھی ہدفی سبسڈی پروگرام میں مناسب حد تک شامل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ دونوں فریقوں کی تکنیکی کمیٹیاں اس بات کا جائزہ لیں گی کہ ڈیزل پر سبسڈی کس طریقے سے دی جا سکتی ہے اور کن افراد یا شعبوں کو اس کا فائدہ پہنچایا جائے گا۔
مقامی ڈیزل کی قیمت میں پہلے ہی 32 روپے کمی
ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات اور اس کے دباؤ کے بعد حکومت مقامی طور پر تیار ہونے والے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کر چکی ہے۔ اس مقصد کیلئے مقامی ڈیزل کی قیمت کو عالمی منڈی کی قیمتوں سے الگ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ کمی مخصوص مقامی ڈیزل کی قیمت سے متعلق بتائی گئی ہے۔ اسے تمام ڈیزل صارفین کیلئے یکساں ریلیف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان بات چیت اب بھی جاری ہے۔ دونوں فریقوں کی تکنیکی کمیٹیاں مجوزہ سبسڈی کے طریقہ کار پر کام کریں گی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہی یہ طے ہوگا کہ پروگرام میں کتنے افراد شامل ہوں گے، کون اہل قرار پائے گا اور پیٹرول یا ڈیزل پر کتنی سبسڈی دی جائے گی۔
سبسڈی کا حتمی فیصلہ کب ہوگا؟
حالیہ پیش رفت کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات پر نئی سبسڈی کے حتمی نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کی تفصیلات تکنیکی کمیٹیوں کی مشاورت اور حکومت کی منظوری کے بعد سامنے آئیں گی۔ اس لیے فی الحال 30 سے 40 روپے فی لیٹر کمی کو ممکنہ ریلیف سمجھا جائے، نہ کہ تمام صارفین کیلئے قیمتوں میں حتمی کمی۔






