تازہ ترین
پاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی شدید مخالفتپاکستان میں مہنگی بائیکس کی مقامی اسمبلنگ کا منصوبہ، قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کا امکانآئی ایم ایف کا پاکستان میں معاشی اصلاحات کی سست رفتار پر تحفظات کا اظہاراسرائیل میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ایران پالیسی پر گہرے اختلافاتیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بلکل صحت مند ہیں، باقر قالیبافایران کیخلاف نفسیاتی جنگ بھی ناکام ہوگی، ایرانی عہدیدارایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور مارکیٹ کا فرق، رکشہ ڈرائیور اور دکاندار پریشاننومبر 2026 میں بینکوں کی مسلسل تین چھٹیاں، 7 سے 9 تاریخ تک برانچز بند رہنے کا امکانپاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی شدید مخالفتپاکستان میں مہنگی بائیکس کی مقامی اسمبلنگ کا منصوبہ، قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کا امکانآئی ایم ایف کا پاکستان میں معاشی اصلاحات کی سست رفتار پر تحفظات کا اظہاراسرائیل میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ایران پالیسی پر گہرے اختلافاتیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بلکل صحت مند ہیں، باقر قالیبافایران کیخلاف نفسیاتی جنگ بھی ناکام ہوگی، ایرانی عہدیدارایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور مارکیٹ کا فرق، رکشہ ڈرائیور اور دکاندار پریشاننومبر 2026 میں بینکوں کی مسلسل تین چھٹیاں، 7 سے 9 تاریخ تک برانچز بند رہنے کا امکان
کاروبار

ایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور مارکیٹ کا فرق، رکشہ ڈرائیور اور دکاندار پریشان

ایل پی جی کی قیمت میں کمی

پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان مبینہ فرق نے صارفین اور فروخت کنندگان کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

ایل پی جی استعمال کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ زیادہ قیمتوں پر گیس خریدنے سے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ رکشہ ڈرائیوروں کے لیے ایندھن کا بڑھتا ہوا خرچ آمدن پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

شہریوں اور رکشہ ڈرائیوروں کے مطابق گیس کی قیمت میں اضافے یا سرکاری نرخ سے زیادہ وصولی کی صورت میں روزانہ کی کمائی کا بڑا حصہ ایندھن پر خرچ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں دیگر اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ سڑکوں پر کئی گھنٹے محنت کرنا پڑتی ہے، لیکن گیس کی خریداری پر زیادہ رقم خرچ ہونے کے باعث بچت محدود رہ جاتی ہے۔

گیس کی عدم دستیابی سے دکاندار بھی پریشان

ایل پی جی کی مبینہ عدم دستیابی اور سپلائی میں تعطل نے فروخت کنندگان کو بھی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ دکانداروں کے مطابق بعض اوقات گیس مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے، جس سے کاروباری اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور منافع برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔

فروخت کنندگان کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی بروقت نہ پہنچے تو دکان کھلی رکھنے کے باوجود صارفین کی طلب پوری کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس صورتِ حال سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوتا ہے بلکہ گیس خریدنے کے لیے آنے والے شہریوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مقررہ نرخوں پر فروخت یقینی بنانے کا مطالبہ

سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان فرق کے باعث ایل پی جی کی قیمتوں کی نگرانی اور سپلائی کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ صارفین اور دکانداروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام گیس کی دستیابی کا جائزہ لیں، سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنے کے اقدامات کریں اور مقررہ نرخوں پر فروخت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کریں۔

شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قیمتوں سے متعلق واضح معلومات عام کرنا اور خلاف ورزی کی صورت میں شکایات کے ازالے کا مؤثر طریقہ بھی اہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دکانداروں کو مناسب نرخوں پر گیس کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ انہیں کاروبار جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔