عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان میں زراعت اور ریٹیل سیکٹر سمیت معاشی اصلاحات کی سست رفتار پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر زور دیا ہے۔
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاشی پروگرام کے تحت کی جانے والی اصلاحات پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ان کی سست رفتار پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، بالخصوص زراعت اور ریٹیل کے شعبوں میں ہونے والی پیشرفت کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا انکشاف ہے کہ صوبائی حکومتیں زرعی شعبے کو باقاعدہ طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مطلوبہ کسانوں اور زمینوں کی رجسٹریشن کے اہداف کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں اور مالی سال 26-2025 کے دوران زرعی شعبے سے متوقع ٹیکس گوشواروں کے اہداف کا حصول بھی ممکن نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ زراعت کے شعبے میں طویل عرصے سے دی جانے والی ٹیکس چھوٹ اور مختلف استثنیٰ جات اب بھی بدستور برقرار ہیں، جنہیں ختم کیے بغیر معاشی استحکام حاصل کرنا ناممکن ہے۔
عالمی ادارے نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی مجموعی شرح کو بڑھا کر کم از کم 15 فیصد کی سطح پر لائے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی انتہائی محدود شرح کے دیرینہ مسئلے سے نبردآزما ہے اور چونکہ ملک میں غیر رسمی معیشت کا حجم بہت زیادہ ہے، اس لیے محض چند دکانداروں یا تنخواہ دار طبقے پر دباؤ بڑھانا معاشی مسائل کا پائیدار حل ثابت نہیں ہو سکتا۔
ان تمام چیلنجز کے پیش نظر آئی ایم ایف نے اس بات کا بھی پرزور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو صحت اور تعلیم سمیت انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں کے لیے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے چاہئیں اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس کی شرح میں مکمل یکسانیت کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ ملکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے۔






