تازہ ترین
پاکستان میں مہنگی بائیکس کی مقامی اسمبلنگ کا منصوبہ، قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کا امکانمغرب ایشیا میں سکیورٹی صرف علاقائی ممالک کے تعاون سے ممکن ہے، محسن رضائیپنجاب میں طاقتور بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا، مریم نوازچین پاکستان انفارمیشن کوریڈور پاک چین دوستی کی نئی آواز بنے گا، عطاء تارڑایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور مارکیٹ کا فرق، رکشہ ڈرائیور اور دکاندار پریشانپاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی شدید مخالفتنومبر 2026 میں بینکوں کی مسلسل تین چھٹیاں، 7 سے 9 تاریخ تک برانچز بند رہنے کا امکانآئی ایم ایف کا پاکستان میں معاشی اصلاحات کی سست رفتار پر تحفظات کا اظہارپاکستان میں مہنگی بائیکس کی مقامی اسمبلنگ کا منصوبہ، قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کا امکانمغرب ایشیا میں سکیورٹی صرف علاقائی ممالک کے تعاون سے ممکن ہے، محسن رضائیپنجاب میں طاقتور بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا، مریم نوازچین پاکستان انفارمیشن کوریڈور پاک چین دوستی کی نئی آواز بنے گا، عطاء تارڑایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور مارکیٹ کا فرق، رکشہ ڈرائیور اور دکاندار پریشانپاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی شدید مخالفتنومبر 2026 میں بینکوں کی مسلسل تین چھٹیاں، 7 سے 9 تاریخ تک برانچز بند رہنے کا امکانآئی ایم ایف کا پاکستان میں معاشی اصلاحات کی سست رفتار پر تحفظات کا اظہار
پاکستان

پاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی شدید مخالفت

ویٹو پاور

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کونسل میں جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی میں ویٹو کے استعمال پر ہونے والی بحث کے دوران پاکستان مشن کے قونصلر اور سیاسی رابطہ کار گل قیصر سروانی نے کہا کہ ویٹو پاور میں توسیع سے سلامتی کونسل میں عدم مساوات مزید گہری ہوگی۔ پاکستان نئے مستقل ارکان کی شمولیت اور ویٹو کے استحقاق میں کسی بھی قسم کی توسیع کی مخالفت کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ویٹو پاور کے مکمل خاتمے یا اس کے استعمال پر سخت پابندیوں کا حامی ہے، کیونکہ ویٹو پاور کا ناجائز استعمال اقوام متحدہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور 15 رکنی کونسل کے اندر ادارہ جاتی تعطل کا باعث بنتا ہے۔

پاکستانی قونصلر نے بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل گروپ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں حاصل کرنے کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل مزید مسائل پیدا کرنا نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں قائم اتحاد برائے اتفاقِ رائے (یونائٹنگ فار کن سینسس) سلامتی کونسل کی توسیع کے دوران کسی بھی نئے ملک کو انفرادی طور پر مستقل رکن بنانے کے خلاف ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پانچ مستقل ارکان امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ کو حاصل غیر معمولی اثر و رسوخ کو ختم کر کے اصلاحات کو سب کے لیے یکساں بنایا جائے، کسی کے لیے مخصوص مراعات نہیں ہونی چاہئیں۔

گل قیصر سروانی نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کو زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنانے کے لیے منتخب ارکان کی تعداد، نمائندگی اور کردار بڑھایا جائے، جبکہ فیصلے منظور کرنے کے لیے درکار حمایت کی حد میں تبدیلی لائی جائے تاکہ ویٹو کے استعمال پر مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے تمام پانچوں نکات پر ایک جامع پیکج کے تحت بیک وقت فیصلے کیے جانے چاہئیں۔

پاکستانی قونصلر نے اپریل 2022 کی قرارداد 76/262 کی حمایت کی، جس کے تحت ویٹو استعمال ہونے کے 10 کاروباری دنوں کے اندر جنرل اسمبلی کا اجلاس بلایا جاتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کی متعلقہ دفعات سے مطابقت رکھتے ہونے چاہئیں۔