تازہ ترین
پاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی شدید مخالفتپاکستان میں مہنگی بائیکس کی مقامی اسمبلنگ کا منصوبہ، قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کا امکانآئی ایم ایف کا پاکستان میں معاشی اصلاحات کی سست رفتار پر تحفظات کا اظہاراسرائیل میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ایران پالیسی پر گہرے اختلافاتیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بلکل صحت مند ہیں، باقر قالیبافایران کیخلاف نفسیاتی جنگ بھی ناکام ہوگی، ایرانی عہدیدارایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور مارکیٹ کا فرق، رکشہ ڈرائیور اور دکاندار پریشاننومبر 2026 میں بینکوں کی مسلسل تین چھٹیاں، 7 سے 9 تاریخ تک برانچز بند رہنے کا امکانپاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی شدید مخالفتپاکستان میں مہنگی بائیکس کی مقامی اسمبلنگ کا منصوبہ، قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کا امکانآئی ایم ایف کا پاکستان میں معاشی اصلاحات کی سست رفتار پر تحفظات کا اظہاراسرائیل میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ایران پالیسی پر گہرے اختلافاتیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بلکل صحت مند ہیں، باقر قالیبافایران کیخلاف نفسیاتی جنگ بھی ناکام ہوگی، ایرانی عہدیدارایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور مارکیٹ کا فرق، رکشہ ڈرائیور اور دکاندار پریشاننومبر 2026 میں بینکوں کی مسلسل تین چھٹیاں، 7 سے 9 تاریخ تک برانچز بند رہنے کا امکان
تجزیہ و بلاگز

اسرائیل میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ایران پالیسی پر گہرے اختلافات

ایران

اسرائیل کے اندر ایران کے خلاف مجوزہ فوجی اقدامات اور الخلیل کے آپریشن کو لے کر سیاسی و عسکری قیادت بالخصوص وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور آرمی چیف کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں، جنہیں میڈیا میں وسیع پیمانے پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔

اسرائیل میں انتخابی سرگرمیوں کے عروج کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین پیدا ہونے والی گہری کشیدگی نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی مجوزہ عسکری اقدام پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ملک کے فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کے درمیان اختلافات اس خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اگر دوبارہ حکومت تشکیل پاتی ہے تو آرمی چیف کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے قوی امکانات پر غوروخوض کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم اور فوجی کمانڈر کے درمیان تہران کے خلاف سکیورٹی حکمتِ عملی پر پائے جانے والے تحفظات اب ناقابلِ تلافی شکل اختیار کر چکے ہیں اور اگرچہ وزیراعظم کے قریبی حلقوں اور وزارتِ دفاع کی جانب سے ان خبروں کی تردید جاری کی گئی ہے، لیکن اندرونی ذرائع اصرار کرتے ہیں کہ کشیدگی حقیقی ہے۔

مبینہ طور پر اختلافات کی جڑ یہ تھی کہ سیاسی قیادت ایران کے خلاف فوری اور بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی خواہاں تھی، جب کہ آرمی چیف ایال ضمیر نے سخت تکنیکی اور پیشہ ورانہ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اسرائیل کی موجودہ فوجی تیاریاں اور عجلت میں اٹھائے جانے والے قدم تہران کے لیے غلط پیغام کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے ایران پیشگی حملہ کر کے پورے خطے کو ایک اچانک اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں دھکیل سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے اندر بھی اس نازک معاملے پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے، کیونکہ جہاں آرمی چیف نے فوری اقدامات پر کڑے سوالات اٹھائے، وہیں موساد اور شاباک کے سربراہان سخت گیر مؤقف کے حامی دکھائی دیئے۔

اس کے علاوہ، یہ تنازعہ صرف ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں جاری متنازعہ فوجی آپریشن کے خاتمے پر بھی عسکری حکام اور سیاسی قیادت آمنے سامنے آ گئی، جہاں فوج کا ماننا تھا کہ آپریشن کے تمام اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں اور اسے مزید طول دینا غیر ضروری ہے، لیکن وزیراعظم نے اصرار کر کے آپریشن جاری رکھنے کا حکم دیا۔

ادھر امریکی میڈیا کے ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ نیتن یاہو انتخابات سے قبل واشنگٹن کو ایک مشترکہ کارروائی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عسکری سطح پر پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر اس کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ نیتن یاہو محض اپنی انتخابی سیاست اور اقتدار کی جنگ کے لیے ملک کی اجتماعی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔