تازہ ترین
قومی شاہراہوں پر پیٹرول پمپس اور کمرشل اراضی کے خلاف کریک ڈاؤن، این ایچ اے کی اربوں روپے کی اراضی واگزار کرانے کا فیصلہاسٹیٹ بینک کا شرح سود میں 0.5 فیصد اضافہ، شرح 12 فیصد ہوگئیکولمبیا کی ریپر چیلو ہوپ کا فلسطین کے حق میں احتجاج؛ پرفارمنس کے اختتام پر اسرائیلی پرچم پاؤں تلے روند دیاعوام کو ریلیف نہ ملا تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمانکوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق، ملزمان فرارسونے کی قیمت میں یکدم بڑا اضافہ ہوگیاوزیراعظم نیتن یاہو اور فوجی سربراہ میں کوئی اختلاف نہیں، نہ ہی ایران پر حملے کا ارادہ ہے، اسرائیلی وزیر دفاعایران میں اہم ترین بیٹھک، غیر یقینی حالات میں مکہ اتحاد خطے کی سلامتی کی مضبوط بنیاد بن گیا؛ فیلڈ مارشل تہران پہنچ گئےقومی شاہراہوں پر پیٹرول پمپس اور کمرشل اراضی کے خلاف کریک ڈاؤن، این ایچ اے کی اربوں روپے کی اراضی واگزار کرانے کا فیصلہاسٹیٹ بینک کا شرح سود میں 0.5 فیصد اضافہ، شرح 12 فیصد ہوگئیکولمبیا کی ریپر چیلو ہوپ کا فلسطین کے حق میں احتجاج؛ پرفارمنس کے اختتام پر اسرائیلی پرچم پاؤں تلے روند دیاعوام کو ریلیف نہ ملا تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمانکوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق، ملزمان فرارسونے کی قیمت میں یکدم بڑا اضافہ ہوگیاوزیراعظم نیتن یاہو اور فوجی سربراہ میں کوئی اختلاف نہیں، نہ ہی ایران پر حملے کا ارادہ ہے، اسرائیلی وزیر دفاعایران میں اہم ترین بیٹھک، غیر یقینی حالات میں مکہ اتحاد خطے کی سلامتی کی مضبوط بنیاد بن گیا؛ فیلڈ مارشل تہران پہنچ گئے
کاروبار

قومی شاہراہوں پر پیٹرول پمپس اور کمرشل اراضی کے خلاف کریک ڈاؤن، این ایچ اے کی اربوں روپے کی اراضی واگزار کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے قومی شاہراہوں کے اطراف نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی اراضی پر مبینہ طور پر قائم پیٹرول پمپس اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ سرکاری زمین واگزار کرانے کے لیے ملک بھر میں مرحلہ وار کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی جانب سے 20 اکتوبر کو جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق پیٹرول پمپس کی انتظامیہ کو 27 اکتوبر 2026 کو تحقیقاتی افسر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا تعلق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر کنٹرول رائٹ آف وے (ROW) کی اراضی پر نجی افراد اور کاروباری اداروں کی جانب سے پیٹرول پمپس اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے مبینہ قیام سے ہے۔ اس میں گرینڈ ٹرنک روڈ (این-5) سمیت دیگر قومی شاہراہوں کے اطراف واقع سرکاری زمین کا استعمال بھی زیرِ تفتیش ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی شاہراہوں کے اطراف پیٹرول پمپس کے لیے استعمال ہونے والی سرکاری اراضی کی مالیت اربوں روپے میں بتائی جاتی ہے۔ اس زمین کو واگزار کرانے کے لیے متعلقہ اداروں نے کارروائی مرحلہ وار آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی پیٹرول پمپس کی انتظامیہ کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں متعدد پیٹرول پمپس کے رقبے میں کمی کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ایسے پیٹرول پمپس جن کی اراضی کا کچھ حصہ غیر قانونی طور پر سرکاری حدود میں آتا ہے، انہیں متعلقہ جگہ خالی کرنا پڑ سکتی ہے۔ بعض مقامات پر پیٹرول پمپس کی منتقلی یا بندش کی نوبت بھی آ سکتی ہے، تاہم اس کا فیصلہ متعلقہ اراضی کے ریکارڈ، قانونی دستاویزات اور مجاز حکام کی جانچ پڑتال کے بعد کیا جائے گا۔

ایف آئی اے نے متعلقہ پیٹرول پمپس کی انتظامیہ سے لیز معاہدے، متعلقہ حکام کے جاری کردہ عدم اعتراض سرٹیفکیٹس (این او سیز)، ضلعی انتظامیہ، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) یا این ایچ اے کی منظوریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لائسنس سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات طلب کی ہیں۔

نوٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق طلب کیے گئے نمائندے کو تحقیقاتی افسر کے سامنے پیش ہو کر سوالات کے جوابات دینے اور پیٹرول پمپ کے قیام و آپریشن سے متعلق قانونی و انتظامی حیثیت واضح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے خبردار کیا ہے کہ پیش نہ ہونے کی صورت میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ متعلقہ فریق اپنے دفاع میں کچھ پیش نہیں کرنا چاہتا۔ نوٹس میں عدم تعمیل کی صورت میں قانونی نتائج کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ متعلقہ پیٹرول پمپس کے خلاف الزامات تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کا حتمی تعین اراضی کے ریکارڈ، لیز معاہدوں اور متعلقہ اداروں کی منظوریوں کی جانچ پڑتال کے بعد کیا جائے گا۔