پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس اضافے نے مہنگائی سے پریشان شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
حالیہ دنوں میں عمان اور ایران سے ایل پی جی لے کر آنے والے دو بحری جہازوں کی آمد سے قیمتوں میں کمی کی امید پیدا ہوئی تھی۔ ایران کی جانب سے سرحد دوبارہ کھولنے سے متعلق وضاحت کے بعد بھی سپلائی بہتر ہونے کی توقع کی جارہی تھی۔ تاہم، ان پیش رفتوں کے باوجود کئی شہروں میں صارفین کو اب بھی مہنگے داموں ایل پی جی خریدنا پڑ رہی ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی کی سپلائی میں کتنا اضافہ ہوا؟
رپورٹس کے مطابق ایل پی جی لے کر آنے والے دو بحری جہاز مجموعی طور پر 7 ہزار 603 میٹرک ٹن گیس لے کر پورٹ قاسم پہنچے۔ ان میں سے جہاز پریانیز (Prianes) نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ٹرمینل پر 4 ہزار 250 میٹرک ٹن ایل پی جی اتاری۔ جبکہ دوسرے جہاز الیسا ون (Alisa One) نے اینگرو کے ٹرمینل پر 3 ہزار 83 میٹرک ٹن گیس فراہم کی۔
اس سپلائی سے مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی بہتر ہونے کی امید ظاہر کی گئی۔ اس کے علاوہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایران کے سرحدی راستوں سے رکی ہوئی ایل پی جی کی سپلائی بھی دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ اگر سپلائی میں مسلسل بہتری آتی ہے تو اس سے قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
تاہم، صرف بحری جہازوں کی آمد سے فوری طور پر قیمتوں میں کمی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ اس کا انحصار مارکیٹ میں گیس کی دستیابی، طلب اور فروخت کے نظام پر بھی ہوگا۔
اوگرا کے مطابق ایل پی جی کی سرکاری قیمت کیا ہے؟
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مقرر کردہ سرکاری قیمت کے مطابق ایل پی جی کا نرخ 280 روپے فی کلو ہے۔ لیکن مختلف شہروں میں کھلی مارکیٹ کے اندر صارفین کو اس سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں ایل پی جی 600 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔ سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان یہ فرق شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مہنگی گیس خریدنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
مختلف شہروں میں ایل پی جی کے تازہ نرخ
ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی کی قیمتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ کوئٹہ میں قیمت 30 روپے کمی کے بعد 520 روپے فی کلو ہوگئی۔ پشاور میں ایل پی جی 570 روپے فی کلو جبکہ اٹک میں 600 روپے فی کلو فروخت ہونے کی اطلاع ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو تک بتائی گئی ہے۔ کراچی میں بھی اس کی قیمت 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ ان نرخوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں میں صارفین کو سرکاری قیمت سے زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
لاہور میں ایل پی جی کی دکانیں دکانداروں کی ہڑتال کے باعث مسلسل دوسرے روز بند رہیں۔ اس صورتحال نے صارفین کے لیے گیس حاصل کرنا مزید مشکل بنا دیا۔ تاہم، یہ قیمتیں فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ہیں اور مقامی مارکیٹ میں ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
ایل پی جی کی قیمتیں کب کم ہونے کی توقع ہے؟
مارکیٹ ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ سپلائی بہتر ہونے کے بعد اگلے روز سے ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ ایران سے سپلائی بحال ہونے کی صورت میں بھی مارکیٹ کو مزید گیس ملنے کا امکان ہے۔
لیکن قیمتوں میں کمی کب اور کتنی ہوگی، اس بارے میں ابھی حتمی یقین دہانی موجود نہیں۔ صارفین کو ریلیف ملنے کے لیے ضروری ہے کہ گیس کی سپلائی میں بہتری کا اثر مارکیٹ نرخوں پر بھی نظر آئے۔ اس کے ساتھ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کی نگرانی بھی اہم ہے۔
مہنگی ایل پی جی سے گھریلو اخراجات بڑھ گئے
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے صرف گیس کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ گھریلو بجٹ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ مہنگائی کے باعث پہلے ہی آٹا، دالیں، مرغی، گوشت اور دودھ جیسی ضروری اشیا خریدنا مشکل ہورہا ہے۔ ایسے میں کھانا پکانے کے ایندھن کی قیمت بڑھنے سے خاندانوں پر مزید مالی دباؤ پڑتا ہے۔






