آن لائن گاڑی خریدنے کا معاملہ مبینہ فراڈ میں تبدیل ہوگیا۔ شہری نے گاڑی کے عوض 36 لاکھ روپے ادا کیے، لیکن اسے گاڑی بھی نہیں ملی اور رقم بھی واپس نہ ہوسکی۔
متاثرہ شہری نے انصاف کیلئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی کھلی کچہری سے رجوع کرلیا۔ شہری کی شکایت پر پولیس حکام نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو کارروائی کی ہدایت جاری کردی۔
متاثرہ شہری نے کھلی کچہری کے دوران اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے OLX کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں اس نے 36 لاکھ روپے ادا کیے۔ تاہم، رقم وصول کرنے کے بعد گاڑی کے مالک نے پیسے لینے سے انکار کردیا۔ اس طرح شہری نہ گاڑی حاصل کرسکا اور نہ ہی اپنی رقم واپس لے سکا۔ متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ اس کے پاس رقم کی ادائیگی سے متعلق ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔
شہری کی شکایت سننے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے معاملے کا فوری نوٹس لیا۔ انہوں نے ایس ایچ او ہنجروال کو ہدایت کی کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں واقعے کی تحقیقات کی جائیں۔ پولیس کو یہ بھی کہا گیا کہ معاملے کی مکمل چھان بین کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج، جیو فینسنگ اور دیگر تفتیشی ذرائع استعمال کیے جائیں۔ اس عمل کے ذریعے واقعے کے حقائق سامنے لانے اور ذمہ دار افراد کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی۔
فیصل کامران نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران فراڈ ثابت ہوجائے تو ملوث افراد کو گرفتار کرکے رقم کی برآمدگی کیلئے قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کی محنت سے کمائی گئی رقم ہڑپ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تاہم، معاملے میں کسی شخص کے ملوث ہونے کا حتمی فیصلہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
کھلی کچہری میں صرف گاڑی کی خریداری میں مبینہ فراڈ کا معاملہ ہی پیش نہیں ہوا، بلکہ شہریوں نے دیگر مسائل سے متعلق بھی شکایات درج کرائیں۔ ان میں وراثتی جائیداد کے تنازعات، رقم کے لین دین، دھوکا دہی اور تشدد سے متعلق شکایات شامل تھیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے متعلقہ تھانوں کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام درخواستوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور دستیاب شواہد کی تصدیق کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس سلسلے میں شمالی چھاؤنی، باٹا پور، شیرا کوٹ، مستی گیٹ، شاہدرہ، ڈیفنس سی، گرین ٹاؤن اور شادباغ کے متعلقہ افسران کو بھی ضروری احکامات جاری کیے گئے۔ پولیس حکام کو شہریوں کی شکایات پر توجہ دینے اور معاملات کو قانون کے مطابق حل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد شہریوں کے مسائل براہ راست سننا اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔ شہریوں کو انصاف کے حصول کیلئے غیر ضروری طور پر دفاتر کے چکر نہیں لگانے چاہییں۔ فراڈ، ہراسگی اور دیگر سماجی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔






