وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کے بلوں سے متعلق اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق بجلی کے 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کا استعمال 201 یونٹ ہونے پر اضافی چارجز عائد کرنے کے موجودہ فارمولے کو چھ ماہ کیلئے ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حکومت اس معاملے پر تیزی سے کام کر رہی ہے اور جلد نئی پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔
اویس لغاری نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے موجودہ نظام میں بعض صارفین کو زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ غریب صارفین کو اس سہولت سے نسبتاً کم فائدہ ملتا ہے۔ حکومت ایسا طریقہ کار متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت صارفین کو زیادہ مناسب انداز میں ریلیف دیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران وزیر توانائی نے کہا کہ گردشی قرضہ کم ہو کر 1670 ارب روپے رہ گیا ہے۔ حکومت نے آئندہ چار سال میں اس قرضے کو ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گردشی قرضوں پر عائد ڈیٹ سروس سرچارج بھی ختم ہو جائے گا۔
وفاقی وزیر نے وزارت توانائی کو ملنے والی بجٹ معاونت کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ حکومت کے قیام کے وقت وزارت توانائی کو 1180 ارب روپے کی بجٹ سپورٹ مل رہی تھی۔ رواں مالی سال میں یہ رقم کم ہو کر 700 ارب روپے رہ گئی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، جنہیں ڈسکوز کہا جاتا ہے، کے نقصانات میں ہر سال کمی کی گئی ہے۔ تاہم اس کمی کا فائدہ ابھی تک بجلی صارفین تک نہیں پہنچ سکا۔
سینیٹ اجلاس میں سینیٹر عابد شیر علی نے بجلی کے ٹیرف اور صارفین کو درپیش مشکلات پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں کا معاملہ پاکستان کے کروڑوں عوام سے جڑا ہوا ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے بھی بجلی کے بل ادا کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ اگر کوئی صارف 200 یونٹ کے بجائے 201 یونٹ بجلی استعمال کر لے تو اس کا بل اچانک دگنا ہو جاتا ہے۔
عابد شیر علی نے سوال اٹھایا کہ کیا بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ہونے والی چوری اور نقصانات کا بوجھ بھی غریب صارفین پر ڈالا جا رہا ہے؟ ان کے مطابق بجلی کے بلوں میں اچانک اضافے سے عام شہریوں کیلئے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اس مسئلے کا واضح حل پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس پر اویس لغاری نے جواب دیا کہ بجلی کے ٹیرف کے سلیب کا تعین ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بڑھ کر تقریباً دو کروڑ ہو گئی ہے۔ اس گروپ کے بہت سے صارفین شمسی توانائی بھی استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بجلی کے استعمال کے اعداد و شمار اور صارفین کی ضروریات کو سمجھنا اہم ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت اب صرف بجلی کے استعمال شدہ یونٹس کی بنیاد پر ریلیف دینے کے بجائے غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے سہولت فراہم کرنے کے نظام پر کام کر رہی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد ان صارفین کی بہتر مدد کرنا ہے جنہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔






