کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی کے شہریوں نے بھی نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کے قیام کی حمایت کردی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی امور میں بہتری کے لیے موجودہ نظام میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے، اس لیے صوبوں کی تعداد بڑھانے اور انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
کراچی کے شہریوں کے مطابق آبادی میں کئی گنا اضافے کے بعد انتظامی ضروریات بھی تبدیل ہوچکی ہیں، لیکن حکومتی نظام میں اس تناسب سے بہتری نہیں آسکی۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے مقامی سطح پر انتظامیہ مضبوط ہوگی اور عوام کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جاسکیں گے۔
زیادہ صوبے ہوں گے تو مقامی انتظامیہ مضبوط ہوگی، شہری
شہریوں کا کہنا ہے کہ جتنے زیادہ صوبے ہوں گے، اتنی ہی مقامی انتظامیہ کو مضبوط بنانے کا موقع ملے گا۔ چھوٹے صوبوں کی صورت میں وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ حکام کے لیے اپنے علاقوں کے مسائل پر توجہ دینا نسبتاً آسان ہوگا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی بہتری آسکتی ہے۔
کراچی کے شہریوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آبادی میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بجٹ اور بنیادی سہولیات سے مناسب فائدہ مل سکے۔
ان کے مطابق موجودہ انتظامی تقسیم میں بڑے شہروں اور دور دراز علاقوں کے مسائل یکساں طور پر حل کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
قیام پاکستان کے وقت اور آج کے حالات میں بڑا فرق
شہریوں کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ملک کی آبادی بہت کم تھی، لیکن آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس تبدیلی کے باوجود انتظامی نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی نہ ہونا مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ان کے مطابق بڑھتی آبادی کے ساتھ انتظامی امور سنبھالنے کے لیے زیادہ افراد، بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔ اسی لیے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کو سیاسی بحث تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی ضروریات اور انتظامی بہتری کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔
کراچی کے مسائل پر منتخب نمائندوں سے توجہ دینے کا مطالبہ
شہریوں نے کراچی کے منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور انتظامی حکام کو عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے، تاہم شہر کے متعدد مسائل طویل عرصے سے برقرار ہیں۔
شہریوں کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے ساتھ مقامی مسائل کے حل، بجٹ کی منصفانہ تقسیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بڑھتی آبادی کے تقاضوں کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ہی عوامی مسائل کے بہتر حل کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔






