تازہ ترین
پاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیںپاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیں
کاروبار

پاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردی

مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر حملوں کے خطرات میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ پاکستان میں بینکوں، مالیاتی اداروں اور اہم قومی تنصیبات کو ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حکام نے حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے اس حوالے سے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں بینکوں اور دیگر اہم اداروں کو اپنے سائبر سیکیورٹی نظام کا جائزہ لینے اور اسے مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سائبر حملہ آور مصنوعی ذہانت، خودکار بوٹس اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے مختلف اداروں کے نظام کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے بینکنگ نظام پر حملوں کا خدشہ

نیشنل سرٹ کی ایڈوائزری کے مطابق مصنوعی ذہانت اور خودکار بوٹس کے ذریعے بینکنگ نظام میں مداخلت کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین کے بینک اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ سائبر حملہ آور بینکوں کے ڈیجیٹل نظام میں تبدیلی کرکے صارفین کو غلط بیلنس بھی دکھا سکتے ہیں۔ اس صورت میں ممکن ہے کہ اکاؤنٹ میں موجود اصل رقم محفوظ ہو، لیکن صارف کو موبائل ایپ یا آن لائن بینکنگ میں مختلف رقم نظر آئے۔ اس طرح صارفین میں پریشانی اور خوف و ہراس پھیل سکتا ہے۔

بینکوں کے ڈیجیٹل نظام کو کیسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ سائبر حملہ آور ایجنٹک اے آئی ٹولز، بوٹ نیٹس اور خودکار سافٹ ویئر استعمال کرکے حملوں کی رفتار بڑھا سکتے ہیں۔ ان طریقوں کے ذریعے بینکوں کے ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) اور ادائیگی کے نظام میں مداخلت کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ صارفین کی مالی معلومات چوری کرنے اور اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ جدید خودکار ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایسے حملوں کی شناخت اور روک تھام پہلے سے زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔

ریفائنریز اور بجلی کے نظام کو بھی خطرہ

نیشنل سرٹ نے صرف بینکوں ہی نہیں بلکہ اہم قومی تنصیبات کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق ریفائنریز، تیل و گیس کی پائپ لائنز اور بجلی کے نظام بھی سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

حملہ آور صنعتی کنٹرول سسٹمز میں ردوبدل کرکے اہم تنصیبات کے کام کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے حملوں سے نہ صرف اداروں بلکہ عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بینکوں اور اداروں کو اہم ہدایات جاری

ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل سرٹ نے بینکوں کو ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن (MFA) کا نظام اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس نظام کے تحت صارف کی شناخت کی تصدیق کے لیے پاس ورڈ کے علاوہ اضافی طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ مشکوک مالی لین دین اور غیر معمولی آن لائن سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کرنے کا کہا گیا ہے۔ اہم آپریشنل سسٹمز تک براہ راست انٹرنیٹ رسائی محدود کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ادارے اپنے آئی ٹی اور آپریشنل ٹیکنالوجی (OT) نیٹ ورکس کو الگ رکھیں۔ اس کے علاوہ سائبر حملے کی صورت میں فوری کارروائی، ڈیٹا کے تحفظ اور کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جائے۔

حکام کے مطابق جدید سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے اداروں کو اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی مسلسل بہتر بنانا ہوگی تاکہ صارفین کی مالی معلومات اور اہم قومی نظام محفوظ رہ سکیں۔