پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کرنے والے افراد کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
حکومت نے کمرشل بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کا حصول آسان بنایا جائے۔ اس کے ساتھ بینکوں کو فنانسنگ تک زیادہ سے زیادہ کاروباروں کی رسائی یقینی بنانے کا بھی کہا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد نئے کاروبار شروع کرنے اور پہلے سے موجود کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر غور کیا گیا کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ چھوٹے کاروباروں کو باقاعدہ بینکاری نظام کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے کمرشل بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کی فراہمی میں اضافہ کریں۔ چھوٹے کاروباروں کو مالی سہولیات فراہم کرنے سے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اجلاس میں حکومت کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ایس ایم ای کنیکٹ پورٹل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ آن لائن پلیٹ فارم چھوٹے کاروباروں کو بینکوں سے براہ راست رابطہ کرنے اور قرضوں کے لیے درخواست دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے کاروباری افراد کو مختلف بینکوں تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ انہیں قرض کے حصول کے لیے بار بار مختلف اداروں کے چکر لگانے کی ضرورت بھی کم پڑسکتی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پورٹل کے آغاز کے چند ہی دنوں میں ہزاروں افراد نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس پیش رفت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو پورٹل میں مزید بہتری لانے اور درخواست جمع کرانے کا طریقہ آسان بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں ایس ایم ایز کے لیے مختص قرضوں کی حد سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھانے پر بھی بات ہوئی۔ وزیر خزانہ نے بینکوں اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان بہتر تعاون سے کاروباری افراد کو قرضوں کے حصول میں درپیش مشکلات کم کی جاسکتی ہیں۔
اس موقع پر متعلقہ وزارتوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ ایس ایم ای فنانسنگ کی راہ میں حائل قانونی اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں دور کریں۔ اس سے قرضوں کی منظوری اور فراہمی کا عمل مزید آسان بنایا جاسکے گا۔






