چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے جلد کی صفائی اور دیکھ بھال بہت ضروری ہے۔ تاہم بعض اوقات ناک، ٹھوڑی اور ماتھے پر چھوٹے سیاہ دانے نظر آنے لگتے ہیں۔ انہیں بلیک ہیڈز کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ خواتین اور مردوں دونوں میں عام ہے۔
بہت سے لوگ ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے مہنگی بیوٹی پروڈکٹس اور مختلف فیشل ٹریٹمنٹس کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق کچھ مخصوص اجزا کے استعمال سے بھی بلیک ہیڈز کو کم کیا جا سکتا ہے۔
جلدی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک ہیڈز ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے ان کی وجہ سمجھنا ضروری ہے۔ اس کے بعد جلد کی نوعیت کے مطابق مناسب اسکن کیئر مصنوعات کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ہر مہنگی پروڈکٹ جلد کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سادہ اور مناسب اجزا زیادہ بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔
چہرے پر بلیک ہیڈز کیوں بنتے ہیں؟
بلیک ہیڈز دراصل جلد کے مسام بند ہونے کی ایک عام شکل ہیں۔ جب جلد میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والی چکنائی، جسے سیبم کہا جاتا ہے، مردہ خلیات کے ساتھ مل کر مساموں میں جمع ہو جاتی ہے تو یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
جب یہ بند مسام کھلے رہتے ہیں تو ان کے اندر موجود مواد ہوا کے رابطے میں آتا ہے۔ آکسیجن کے ساتھ ہونے والے عمل کی وجہ سے اس کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے انہیں بلیک ہیڈز کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر ناک، ٹھوڑی اور ماتھے پر زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔
بلیک ہیڈز ختم کرنے کے لیے 3 مؤثر اجزا
1۔ سیلیسیلک ایسڈ
سیلیسیلک ایسڈ بلیک ہیڈز کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک اہم جزو ہے۔ یہ جلد کے اندر موجود اضافی چکنائی اور مردہ خلیات کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے بند مسام کھلنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ابتدا میں اسے کم مقدار اور ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ استعمال کرنا بہتر ہے۔ اگر جلد پر جلن یا خشکی محسوس ہو تو استعمال روک دینا چاہیے۔
2۔ ٹریٹینوئن
ٹریٹینوئن وٹامن اے سے حاصل ہونے والا ایک جزو ہے۔ یہ جلد کے خلیات کی تجدید کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔ اس سے مسام بند ہونے اور بلیک ہیڈز بننے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ ایک طاقتور دوا ہے۔ اسے ماہرِ امراضِ جلد کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ حاملہ خواتین کو اس کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
3۔ ایزیلیک ایسڈ
ایزیلیک ایسڈ جلد کے کئی مسائل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بلیک ہیڈز اور کیل مہاسوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چہرے پر موجود سیاہ دھبوں اور کیل مہاسوں کے بعد رہ جانے والے نشانات میں بھی بہتری لا سکتا ہے۔ حساس جلد والے افراد کو اس کا استعمال احتیاط سے شروع کرنا چاہیے۔
بلیک ہیڈز ختم کرنے کے لیے کن چیزوں سے بچیں؟
ماہرین کے مطابق بلیک ہیڈز کو ناخنوں سے دبانا یا زبردستی نکالنا جلد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے جلن، سوزش اور بعض اوقات نشانات بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی طرح بلیک ہیڈز نکالنے والے ویکیوم آلات اور پور اسٹرپس کا بار بار استعمال بھی جلد کو متاثر کر سکتا ہے۔
بہتر نتائج کے لیے روزانہ نرم فیس واش سے چہرہ صاف کریں۔ جلد کی مناسبت سے موئسچرائزر استعمال کریں اور دن کے وقت سن اسکرین لگانا نہ بھولیں۔ اگر بلیک ہیڈز مسلسل برقرار رہیں تو جلد کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔






