تازہ ترین
پاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیںپاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیں
صحت

لہسن اور شہد سے وزن کم کرنے کا نسخہ: کیا یہ واقعی مؤثر ہے؟ فوائد اور احتیاطیں

Exclusive
لہسن اور شہد سے وزن کم کرنا

وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد مختلف غذائی طریقے اور گھریلو نسخے آزماتے ہیں۔ ان میں لہسن اور شہد کا امتزاج بھی شامل ہے، جسے روایتی طور پر مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی ایک غذا یا گھریلو نسخے کو وزن میں کمی کا یقینی حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لہسن اور شہد کے استعمال سے متعلق دعووں کو غذائی اور طبی شواہد کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔

لہسن میں کون سے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں؟

لہسن ایک عام غذائی جزو ہے جس میں وٹامن بی 6، وٹامن سی، مینگنیز اور بعض دیگر غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ اس میں سلفر پر مشتمل نباتاتی مرکبات بھی پائے جاتے ہیں، جو لہسن کی مخصوص بو اور ذائقے کا سبب بنتے ہیں۔

لہسن کو مختلف کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور اسے روایتی طور پر صحت کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم لہسن میں موجود غذائی اجزا کی مقدار اس کے استعمال کی مقدار اور تیاری کے طریقے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

شہد کے غذائی فوائد اور کیلوریز

شہد قدرتی مٹھاس فراہم کرتا ہے اور اس میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں کچھ نباتاتی مرکبات بھی پائے جا سکتے ہیں، لیکن اسے وزن کم کرنے کے لیے کم کیلوریز والی غذا نہیں سمجھنا چاہیے۔

اگر کوئی شخص وزن کم کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو شہد کی مقدار کو اپنی مجموعی غذا میں شامل کیلوریز کے حساب سے دیکھنا ضروری ہے۔ قدرتی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی غذا لامحدود مقدار میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

کیا لہسن اور شہد وزن کم کرتے ہیں؟

بعض روایتی دعووں میں کہا جاتا ہے کہ لہسن اور شہد کا امتزاج ہاضمے میں مدد دیتا ہے، جسم سے غیر ضروری مادے خارج کرتا ہے یا وزن کم کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ تاہم اس مخصوص امتزاج سے نمایاں یا تیز وزن میں کمی ہونے کے لیے مضبوط طبی شواہد محدود ہیں۔

وزن میں کمی عموماً اس وقت ہوتی ہے جب جسم کو حاصل ہونے والی کیلوریز، خرچ ہونے والی کیلوریز سے کم ہوں۔ غذا کی مقدار، جسمانی سرگرمی، نیند، ادویات اور دیگر صحت کے عوامل بھی وزن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

روایتی نسخہ کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟

روایتی طور پر چھلے ہوئے لہسن کے جوے شہد کے جار میں شامل کرکے کچھ عرصے کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ بعض افراد اس مرکب کو صبح خالی پیٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

تاہم کچے لہسن کو شہد میں طویل عرصے تک رکھنے سے غذائی حفاظت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، خصوصاً اگر اسے مناسب طریقے سے محفوظ نہ کیا جائے۔ گھر میں تیار کیے گئے مرکب کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا محض روایتی طریقے کی بنیاد پر محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے۔

ممکنہ مضر اثرات

کچا لہسن بعض افراد میں معدے کی جلن، گیس، بدہضمی یا پیٹ میں تکلیف پیدا کر سکتا ہے۔ لہسن بعض ادویات، خاص طور پر خون پتلا کرنے والی ادویات، کے ساتھ تعامل بھی کر سکتا ہے۔ ایسے افراد کو زیادہ مقدار میں لہسن استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

شہد میں شکر زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد نہیں دینا چاہیے۔

وزن کم کرنے کے مؤثر طریقے

وزن کے انتظام کے لیے سبزیوں، پھلوں، مناسب پروٹین اور فائبر سے بھرپور متوازن غذا اختیار کرنا مفید ہے۔ میٹھے مشروبات اور ضرورت سے زیادہ پراسیسڈ غذاؤں کو محدود کرنا، روزانہ جسمانی سرگرمی کرنا اور نیند کا معمول بہتر بنانا بھی اہم ہے۔