تازہ ترین
پاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیںپاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیں
صحت

قدرتی طور پر بلڈ پریشر میں کمی لانے والی بہترین غذائیں کون سی ہیں؟ ماہرین نے بتادیا

Exclusive
بلڈ پریشر

ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں پائی جانے والی عام بیماریوں میں شامل ہے۔ لاکھوں افراد اس مسئلے کا شکار ہیں، لیکن بہت سے لوگوں کو اس وقت تک اس کا علم نہیں ہوتا جب تک بلڈ پریشر خطرناک حد تک نہ بڑھ جائے۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر اس بیماری کو کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ دل، دماغ، آنکھوں اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دل کا دورہ اور فالج ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

بلڈ پریشر اس وقت بڑھتا ہے جب خون شریانوں کی دیواروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ شریانیں تنگ ہونے کی صورت میں خون کی روانی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کو خون پورے جسم تک پہنچانے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو نظر انداز کرنا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس بیماری کو قابو میں رکھنے کے لیے ادویات کے ساتھ صحت مند غذا اور روزمرہ کی اچھی عادات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کچھ خشک میوہ جات میں ایسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو دل اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ بادام، اخروٹ اور پستہ بھی ان غذاؤں میں شامل ہیں۔ ان میں موجود فائبر، میگنیشیم، پروٹین اور مفید چکنائی بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

بادام کے فوائد

بادام کو صحت کے لیے مفید خشک میوہ سمجھا جاتا ہے۔ ان میں فائبر، نباتاتی پروٹین اور میگنیشیم اچھی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ میگنیشیم جسم میں بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بادام میں وٹامن ای بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جسم کے خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق فائبر اور نباتاتی پروٹین سے بھرپور غذا کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

اخروٹ دل کی صحت کے لیے مفید

اخروٹ میں غیر سیر شدہ چکنائی اور مفید فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا دل کی صحت بہتر رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں بھی اخروٹ کے خون کی شریانوں پر ممکنہ مثبت اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اخروٹ کولیسٹرول کی صحت مند سطح برقرار رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں متوازن غذا کا حصہ بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

پستہ بلڈ پریشر کے لیے کیسے مفید ہے؟

پستے میں فائبر، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ مختلف تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ صحت مند غذا کے ساتھ پستے کا استعمال بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں بہتری لانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس میں موجود غذائی اجزا دل اور خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ صرف بادام، اخروٹ یا پستہ کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ یہ خشک میوہ جات صحت مند غذا کا حصہ بن سکتے ہیں، لیکن انہیں ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو باقاعدگی سے اپنا بلڈ پریشر چیک کرنا چاہیے، متوازن غذا استعمال کرنی چاہیے اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔