تازہ ترین
پاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیںپاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیں
سوشل میڈیا رجحان

وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کا اہم سنگ میل، 17 ہزار سے زائد گھرانوں کو 104 ارب روپے کے قرضے

وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت ہاؤسنگ قرضوں کی تقسیم کا مجموعی حجم 100 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

مشیر برائے وزارتِ خزانہ خرم شہزاد کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پروگرام کے تحت اب تک 17 ہزار 697 گھرانوں کو 104 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔

یہ پروگرام گھر کے حصول کے خواہشمند شہریوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ ہاؤسنگ فنانسنگ ان خاندانوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے جو اپنی آمدنی کے ذریعے گھر خریدنے یا تعمیر کرنے کی مکمل رقم ایک ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔

قرضوں کی تقسیم میں نمایاں اضافہ

پروگرام کی پیشرفت کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ جون 2026 کے بعد چھ ماہ کے مختصر عرصے میں قرضوں کی تقسیم میں 404 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کو پروگرام کے تحت فنانسنگ کی فراہمی میں تیزی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

قرضوں کی تقسیم میں اضافے کا جائزہ لیتے ہوئے قرض کی اوسط رقم، درخواست گزاروں کی آمدنی، اہلیت اور فنانسنگ کی شرائط کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

درخواستوں اور منظوریوں کی تعداد

پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 2 لاکھ 20 ہزار 715 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ان میں سے 90 ہزار 405 درخواستوں پر 533 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی گئی ہے۔

درخواستوں کی منظوری کی شرح 41 فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ فنانسنگ کی منظوریوں میں 269 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ درخواست کی منظوری اور قرض کی اصل رقم کی ادائیگی دو مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ منظوری کے بعد بھی متعلقہ شرائط اور دستاویزات مکمل کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔

ہاؤسنگ فنانسنگ کی اہمیت

گھر کی خریداری یا تعمیر عموماً ایک بڑی مالی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہاؤسنگ قرضوں کے ذریعے شہری اپنی مالی استطاعت کے مطابق ادائیگی کی مدت میں رقم واپس کر سکتے ہیں۔ تاہم قرض لینے سے پہلے ماہانہ قسط، آمدنی، گھریلو اخراجات اور دیگر مالی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

قرض کی شرائط، فنانسنگ کی لاگت اور ادائیگی کی مدت کو سمجھے بغیر درخواست دینے سے مستقبل میں مالی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

درخواست گزاروں کے لیے ضروری معلومات

اپنا گھر پروگرام کے تحت قرض کے خواہشمند افراد کو اہلیت، مطلوبہ دستاویزات، قرض کی حد، شرحِ فنانسنگ، ادائیگی کی مدت اور درخواست کے طریقہ کار کی تصدیق متعلقہ سرکاری ادارے سے کرنی چاہیے۔

کسی غیر سرکاری ایجنٹ کو قرض کی منظوری کے نام پر رقم دینے یا ذاتی معلومات فراہم کرنے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت کی جانچ ضروری ہے۔

پروگرام کا مستقبل

ہاؤسنگ قرضوں کی تقسیم میں اضافہ اس پروگرام کی پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار مستحق گھرانوں تک رسائی، شفاف منظوریوں، مناسب شرائط اور مؤثر قرض وصولی کے نظام پر ہوگا۔