واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 25 اکتوبر 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک مرتبہ پھر سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سامنے دو راستے ہیں، ایران کے خلاف کارروائی مکمل کردی جائے یا تہران کے ساتھ معاہدہ کرلیا جائے۔
Trump on Iran:
I have a decision to make: Do I finish it off, which would be very easy to do, or do I make a deal?
That’s the decision. https://t.co/zfy670hZxO
— Clash Report (@clashreport) October 25, 2026
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا:
’’کیا میں ایران کے ساتھ معاہدہ کروں یا اسے ختم کردوں؟ میرے سامنے یہی سوال ہے۔‘‘
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کرنا مشکل نہیں ہوگا، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ واشنگٹن کب اور کس نوعیت کی کارروائی کا فیصلہ کرے گا۔
ٹرمپ کا ایران کو نیا الٹی میٹم؟
ٹرمپ کے تازہ بیان نے ایک مرتبہ پھر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو نمایاں کردیا ہے۔
امریکی صدر کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی انتظامیہ تہران پر فوجی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا امکان بھی کھلا رکھنا چاہتی ہے۔
تاہم ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں کسی نئے حملے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
’’آبنائے ہرمز اب ہمارے کنٹرول میں ہے‘‘
فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز میں فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کو ایرانی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہیں۔
تاہم آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی کنٹرول اور ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق ان کے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ایک طرف مذاکرات، دوسری طرف فوجی کارروائی کی دھمکی
ٹرمپ کے بیانات میں ایک مرتبہ پھر دو متضاد امکانات سامنے آئے ہیں۔
ایک جانب امریکی صدر تہران کے ساتھ نئے معاہدے کی بات کررہے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ ایران کے خلاف مزید حملوں کو آسان قرار دے رہے ہیں۔
24 اکتوبر کو صحافیوں سے گفتگو میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ نئی فوجی کارروائی جلد ہوسکتی ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایک بڑے معاہدے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
امریکی صدر نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مستقل طور پر روکنا چاہتے ہیں۔
کیا مشرقِ وسطیٰ ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے؟
ٹرمپ کی تازہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
کسی نئی امریکی کارروائی کی صورت میں ایران کے ممکنہ ردعمل، خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب سفارتی معاہدہ کشیدگی کم کرنے کا راستہ فراہم کرسکتا ہے، لیکن اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات حل کرنا ضروری ہوگا۔
فی الحال ٹرمپ نے جنگ یا معاہدے میں سے کسی ایک راستے کے انتخاب کا حتمی اعلان نہیں کیا۔ ان کا تازہ بیان فوجی دباؤ اور مذاکرات کی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے۔






