ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ خلیجی ممالک بیرونی مداخلت کے بغیر اپنا سکیورٹی فریم ورک بنائیں، خطے کو غیر ملکی مداخلت کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں وزارتِ خارجہ کے انسٹی ٹیوٹ فار پولیٹیکل اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے خطاب کرتے ہوئے خلیجی خطے کے معاشی اور سکیورٹی حالات پر نقطہ نظر پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام صرف خطے کے ممالک کی باہمی کوششوں سے قائم ہو سکتا ہے اور اس میں کسی غیر ملکی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 1.5 سال کا تنازع ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے اور اب حالات ہرگز پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈے کسی بھی ملک کے لیے سکیورٹی لانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، بلکہ یہ خود بے امنی کا سبب بنے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل کو خطے میں جنگ جوئی کا واحد محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ہمیشہ امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران یا عمان نے کبھی بھی آبنائے ہرمز سے بحری گزرگاہ کو نہیں روکا بلکہ ہمیشہ سکیورٹی اور ماحولیات کا تحفظ کیا ہے، تاہم اب اس گزرگاہ کے انتظام کے پرانے طریقے تبدیل ہو چکے ہیں۔






