تازہ ترین
اسکولوں اور دینی مدارس کے طلبہ کو میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس دی جائیں گی، وزیراعظمکنڈیارو میں زمین کے تنازع پر خونریز تصادم، 4 افراد قتلایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانا روکنا پڑے گا، تاکہ پتہ چلے مذاکرات کس سے ہو رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا عجیب بیانغیر ملکی افواج کے اڈوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بے امنی پھیلائی، ایرانی وزیرِ خارجہایرانی فوج کی کامیاب کارروائی، بندر عباس میں امریکی ساختہ ڈرون مار گرایاسعودی اتحاد کا حوثی ملیشیا کے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰمسلم ورلڈ لیگ کی حوثی ملیشیا کے مکہ اور مدینہ پر حملوں کی مذمتبلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں مطلوب دہشت گرد کمانڈر ہلاکاسکولوں اور دینی مدارس کے طلبہ کو میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس دی جائیں گی، وزیراعظمکنڈیارو میں زمین کے تنازع پر خونریز تصادم، 4 افراد قتلایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانا روکنا پڑے گا، تاکہ پتہ چلے مذاکرات کس سے ہو رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا عجیب بیانغیر ملکی افواج کے اڈوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بے امنی پھیلائی، ایرانی وزیرِ خارجہایرانی فوج کی کامیاب کارروائی، بندر عباس میں امریکی ساختہ ڈرون مار گرایاسعودی اتحاد کا حوثی ملیشیا کے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰمسلم ورلڈ لیگ کی حوثی ملیشیا کے مکہ اور مدینہ پر حملوں کی مذمتبلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں مطلوب دہشت گرد کمانڈر ہلاک
دنیا

ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانا روکنا پڑے گا، تاکہ پتہ چلے مذاکرات کس سے ہو رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا عجیب بیان

ایرانی رہنماؤں

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ کو مزید ایرانی رہنماؤں کو ہلاک کرنا روکنا پڑے گا، تاکہ پتہ چل سکے کہ امریکا کس سے مذاکرات کر رہا ہے۔

امریکی ریاست جارجیا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے عزم کو دہرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عسکری کارروائیوں نے ایران کی فوجی قیادت اور دفاعی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عجیب و غریب دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اب ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانا روکنا پڑے گا، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آخر ہم مذاکرات کس سے کر رہے ہیں، کیونکہ وہاں درجہ ایک اور درجہ دو کے تمام رہنما ختم ہو چکے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے 2018 کے اس فیصلے کا بھی دفاع کیا، جس کے تحت انہوں نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کو منسوخ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے باراک اوباما کے زمانے کا بدترین معاہدہ ختم کیا تھا، جو ایران کے لیے ایٹمی بم کا راستہ ہموار کر رہا تھا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 2025 اور رواں سال کے آپریشنز مڈ نائٹ ہیمر اور ایپک فیوری کے ذریعے امریکا نے ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اسے مالی و عسکری میدان میں شکست دے دی ہے۔