پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو جدید بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے امتحانی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر عملی کام شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں ای شیٹ کے ذریعے امتحانات کا باقاعدہ آغاز بھی کردیا گیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت طلبہ اپنے پرچے ڈیجیٹل طریقے سے حل کریں گے۔ اسے صوبے کے تعلیمی نظام میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کا پہلا تجربہ انٹرمیڈیٹ بائیولوجی کے امتحان میں کیا گیا۔ پنجاب بھر میں تقریباً 50 ہزار طلبہ نے ای شیٹ کے ذریعے اپنا پرچہ دیا۔ یہ تعلیمی بورڈز کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس کامیاب آغاز کے بعد آئندہ سال تمام مضامین میں اس نظام کو نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
تعلیمی حکام مزمل محمود کے مطابق ای شیٹ کے نفاذ سے امتحانی مراکز میں جعلی امیدواروں اور دوسرے شخص کی جگہ پرچہ دینے جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ نئے نظام میں طلبہ کی شناخت اور امتحانی ریکارڈ کو زیادہ بہتر انداز میں محفوظ کیا جاسکے گا۔ اس طرح کسی دوسرے شخص کے نام پر امتحان دینے یا امتحانی عمل میں جعل سازی کے امکانات کم ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ای شیٹ کے ساتھ آن اسکرین مارکنگ کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس طریقے میں امتحانی پرچوں کی جانچ کمپیوٹر اسکرین پر کی جائے گی۔ اس سے اساتذہ اور ممتحنین کو پرچے چیک کرنے میں آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ نمبروں کی گنتی اور نتائج مرتب کرنے کا عمل بھی پہلے کے مقابلے میں تیز ہوسکے گا۔
روایتی امتحانی نظام میں بڑی تعداد میں پرچے جمع کرنے، انہیں متعلقہ مراکز تک پہنچانے اور جانچ کے بعد دوبارہ ریکارڈ مرتب کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ ای شیٹ اور ڈیجیٹل مارکنگ سے ان مراحل کو آسان بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس طرح تعلیمی بورڈز کے انتظامی اخراجات میں بھی کمی آسکتی ہے۔
اس تبدیلی کا ایک اور فائدہ کاغذ کے استعمال میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ای شیٹ کے استعمال سے روایتی ری سائیکل پیپر پر انحصار ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح کاغذ کی خریداری، چھپائی اور دیگر اخراجات میں بچت ممکن ہوگی۔
تعلیمی بورڈ انتظامیہ کے مطابق آئندہ سال سے پنجاب بھر میں تمام مضامین کے امتحانات ای شیٹ پر لیے جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد طلبہ کو بھی نئے امتحانی طریقہ کار سے واقف ہونا ہوگا۔ حکام کو امید ہے کہ ڈیجیٹل نظام سے امتحانات زیادہ شفاف ہوں گے اور نتائج بھی کم وقت میں جاری کیے جاسکیں گے۔






