تازہ ترین
ایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئےایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئے
تعلیم

پنجاب کے سرکاری اور نجی اسکولوں کی نگرانی کیلئے نیا نظام متعارف

محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے سرکاری اور نجی سکولوں کی نگرانی کا نظام مزید سخت کردیا ہے۔

 اس مقصد کے لیے انٹیگریٹڈ یونیفائیڈ مانیٹرنگ ایپ کا دائرہ کار بڑھا کر نیا مانیٹرنگ نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔ نئے احکامات کے تحت سرکاری، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) اور پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹو مینجمنٹ اتھارٹی (پیما) کے تحت چلنے والے اسکولوں کی نگرانی ایک ہی نظام کے ذریعے کی جائے گی۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق 2 نومبر سے تمام سرکاری، پیف اور پیما اسکول نئے مانیٹرنگ سسٹم میں شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ پیف کے تحت آؤٹ سورس کیے گئے نجی اسکولوں کی کارکردگی بھی اسی ایپ کے ذریعے چیک کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد اسکولوں میں تعلیمی اور انتظامی امور کی نگرانی کو بہتر بنانا اور افسران کی ذمہ داریوں کا تعین کرنا ہے۔

نئے مانیٹرنگ ایس او پیز کے تحت اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر (اے ای او) کو اپنے متعلقہ مرکز کے تمام سکولوں کا ماہانہ دورہ کرنا ہوگا۔ ہر اسکول کا مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ معائنہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح کسی بھی اسکول کی نگرانی مقررہ مدت سے زیادہ مؤخر نہیں کی جاسکے گی۔

محکمہ نے اے ای اوز کے روزانہ کے کام کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ ہر اے ای او کو ہر ورکنگ ڈے کم از کم ایک اسکول کا دورہ کرنا ہوگا۔ پہلے مانیٹرنگ راؤنڈ کی تکمیل کے بعد اضافی ورکنگ ڈیز میں اسکولوں کے دوبارہ دورے بھی کیے جائیں گے۔ ضرورت کے مطابق ایک ہی دن میں ایک سے زیادہ اسکولوں کا معائنہ کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔

نئے نظام میں مانیٹرنگ رپورٹس کی اہمیت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ صرف وہی اسکول وزٹس قابل قبول ہوں گے جن کا ریکارڈ مانیٹرنگ ایپ میں درج ہوگا۔ ایپ پر جمع کرائی گئی رپورٹس کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز (ڈی ای ایز) کی نگرانی کا مستند ریکارڈ سمجھا جائے گا۔ جبکہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اسسٹنٹس (ایم ای ایز) کی رپورٹس کو تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ بھی اسی ایپ میں درج وزٹس اور مقررہ کارکردگی کے اشاریوں کی بنیاد پر لیا جائے گا۔ اس لیے افسران کو اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے پوری کرنا ہوں گی۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ نئے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے افسران سے جواب طلب کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای اوز) ایجوکیشن کو ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں نئے احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ نئے نظام کے تحت اسکولوں کے دوروں، رپورٹس اور ضلعی کارکردگی کا ریکارڈ ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ رکھا جائے گا۔